رپورٹ  ناصر محمود

پڑوسی ملک ایران کی آٹو موبائل انڈسٹری تیل اور گیس کے بعد دوسری بڑی صنعت قرار دی جاتی ہے جس کی سالانہ کمائی بارہ ارب ڈالر ہے-  2016 میں جب امریکہ نے یورپی ملکوں کے ساتھ ملکر ایک معاہدے کے تحت ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں واپس لیں تو سب سے پہلے فرانس کی پیجو اور رینالٹ کمپنیاں ایران پہنچیں- اس موقع پر پیجو-سیٹرون نے 70 کروڑ یورو کا معاہدہ کیا جبکہ رینالٹ کمپنی نے ایران میں ساڑھے تین لاکھ کاریں سالانہ بنانے کا نیا پلانٹ لگانے کا اعلان کیا-

ایران کی آٹو موبائل انڈسٹری ایران کھودرو اور سائپا نامی دوبڑی کمپنیوں پر مشتمل ہے جنھوں نے فرانس کی پیجو اور رینالٹ کاروں سے معاہدے کر رکھے تھے- ایک ترجمان کے مطابق اس سال ایران13 لاکھ سے زائد کاریں تیار کرے گا جو امریکی پابندیوں کے بعد پچاس فیصد اضافہ ثابت ہوگی-

ٹرمپ انتظامیہ نے اگست 2018میں جب یکطرفہ طورپردوبارہ معاشی پابندیاں عائد کیں تو  وہاں کارسازی کی صنعت کو سخت نقصان پہنچا- ان پابندیوں کے بعد کسی بھی غیرملکی مینوفیکچرر نے ایران کا رخ نہیں کیا- اسکے برعکس فرانسیسی حکومت نے امریکیوں کی خوشنودی کے لئے ان 114 ایرانی ملازمین کو بھی ملک بدر کرنے کا حکم جاری کر دیا جن کو رینالٹ کمپنی نے دو سال قبل تربیت کیلئے فرانس منتقل کیا تھا- گزشتہ دو سال سے پھنسے ان ایرانی انجینئرز میں سے بیشتر واپس چلے گئے اور کچھ ابھی تک وہاں موجود ہیں مگران سب کی حالت قابل رحم ہے-

باخبرذرائع کے مطابق ایسا پہلی بارنہیں ہوا بلکہ اس سے قبل 2012 میں بھی یہ کمپنیاں اس وقت اچانک راہ فرار اختیارکر گئی تھیں جب مغربی ممالک نے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کا ساتھ دینے کا اعلان کیا- چنانچہ سابق وزیر صنعت رضا رحمانی نے جولائی 2019 میں اعلان کیا کہ آئندہ پیجو اور رینالٹ کو ایرانی مارکیٹ میں داخلے کی اجازت نھیں دی جائیگی- انھوں نے متعدد بارمعاہدوں کی خلاف ورزی کی ھے- واضح رہے ایران کی کارسازی کی صنعت سے ایک لاکھ سے زائد افراد براہ راست وابستہ ہیں جبکہ مزید سات لاکھ افراد اسکی ذیلی صنعتوں سے منسلک ہیں- لھٰذا امریکی پابندیوں کے نتیجے میں مقامی کارسازی کو بدلتی ہوئی صورتحال کا مقابلہ کرنے کا نیا حوصلہ ملا-

البتہ تمام تر سہولتوں اور مواقع کے باوجودیہ کاروں کی مینوفیکچرنگ کی بجائے صرف اسمبلنگ تک محدود ہے- گزشتہ 40 برسوں کے دوران کئی نام بطور قومی کار متعارف کروائے گئے مگر سب ناکام ہوگئے- ان میں پیکان، رینالٹ، پرائڈ، سماند، دینا، رانا، تیبا، اور سائنا وغیرہ شامل تھے مگر آج ان میں سے اکثر ناپید ہیں- دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں سے معاہدوں اور تعاون حاصل کرنے کے باوجود آج بھی ایران کی اپنی کوئی برانڈ نھیں ہے- آجکل زیادہ تر چینی کاریں اسمبل کی جا رہی ہیں- اس سلسلے میں انکی بیوروکریسی کا کردار بھی پاکستانی انتظامیہ سے کچھ مختلف نہیں رہا- ان کی فیکٹریوں کے مالکان اور مینیجرز سرکاری مراعات اور خزانے سے ملنے والی سہولتوں سے مزے اُڑاتے رہے مگر صنعت اپنے پیروں پر آج تک کھڑی نہیں ہو سکی-

ھرسال کروڑوں ڈالر کاروں کے پرزے اور سی کے ڈی درآمدات پر خرچ کئے جاتے ہیں جبکہ ان میں سے بیشترکو مقامی طور پر تیار کردہ ظاہر کیاجاتا ہے- گزشتہ چالیس برسوں سے یہ کمیشن مافیا مقامی وینڈنگ انڈسٹری کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے- چین سے درآمد کردہ پرزہ جات کو مقامی پیداوار قرار دے کر حکومت اور خریدار دونوں کو بیوقوف بنایا جاتا ہے- ان کے نزدیک درآمدی تجارت زیادہ منافع بخش ہے- لھٰذا ایرانی عوام جب اپنی کارسازی کی صنعت کا موازنہ ترکی اور جنوبی کوریا سے کرتے ہیں تو سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے