کشمیر کی حالت زار پر ہارورڈ یونیورسٹی کے اساتذہ و طلبہ تڑپ اٹھے

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ نے مقبوضہ وادی کشمیر میں عائد کردہ پابندیوں اور لوگوں کی گرفتاریوں پر سخت اظہار تشویش کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ وادی چنار میں جمہوری اور پرامن طریقہ کار سے استحکام پیدا کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق امریکہ کی ممتاز اور قدیم ترین یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ نے یہ بات بھارتی حکومت کو لکھے گئے ایک خط میں کہی ہے۔

بھارت کی حکومت کی جانب سے مقبوضہ وادی کشمیر میں اٹھائے گئے سرکاری اقدامات پر لکھے جانے والے خط پر ہارورڈ یونیورسٹی کے 124 اساتذہ اور طلبہ کے دستخط موجود ہیں۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ نے بھارتی حکومت کو بھیجے جانے والے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل کشمیری رہنما شاہ فیصل کو رہا کیا جائے۔

بھارتی حکومت کے نام تحریر کردہ خط میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ وادی کشمیر سے گرفتار کیے جانے والے افراد کو رہا کیا جائے اور نظربندوں پر عائد پابندی کا بھی خاتمہ کیا جائے۔

امریکہ کی معروف یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ نے اپنے خط میں بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لوگوں کے جمہوری حقوق کو پیش نظر رکھتے ہوئے قابل اعتبار اقدامات اٹھائے۔

مقبوضہ وادی کشمیر میں نریندر مودی حکومت نے وادی چنار کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے ساتھ ہی غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کردیا تھا۔ مقبوضہ وادی چنار گزشتہ 13 روز سے بھیانک چھاؤنی کا منظر پیش کررہی ہے اور اشیائے خورو نوش کی قلت کے شکار لوگ بنیادی انسانی ضروریات زندگی کے لیے بھی ’محتاج‘ بنا دیے گئے ہیں۔

مقبوضہ وادی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق خوراک اور ادویات کی شدید قلت کا لوگوں کو سامنا ہے جب کہ سیاسی قائدین کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے اور یا پھر انہیں نظربند کرکے محصور کردیا گیا ہے۔

قابض بھارتی حکومت اور اس کی درندہ صفت افواج نے اپنی بربریت کو دنیا سے چھپانے کے لیے پوری وادی ذرائع ابلاغ کے لیے ’نو گو ایریا‘ بنا دی ہے جب کہ مواصلاتی رابطے پہلے ہی منقطع ہیں۔

2 thoughts on “کشمیر کی حالت زار پر ہارورڈ یونیورسٹی کے اساتذہ و طلبہ تڑپ اٹھے

  • June 23, 2020 at 3:05 pm
    Permalink

    Hey there, I think your blog might be having browser
    compatibility issues. When I look at your blog site in Firefox, it looks fine but when opening in Internet Explorer, it has some overlapping.
    I just wanted to give you a quick heads up! Other then that, terrific blog!

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *