بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں صحافت کا بھی گلا گھونٹ دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) بھارت کی جانب سے وادی چنار کی نیم خودمختار حیثیت، خصوصی درجے کے خاتمے اور مقبوضہ علاقے کی تقسیم کے اعلان نے جہاں کشمیریوں میں بے چینی اور غم و غصہ بھر دیا ہے وہیں کرفیو کے نفاذ نے اس خطہ جنت نظیر کی صحافت پر بھی کاری ضرب لگائی ہے۔

مقامی اور بین الاقوامی صحافی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی میں شدید مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ وادی میں انٹرنیٹ سروس کام کر رہی ہے اور نہ ہی مواصلات کا کوئی دوسرا نظام۔ ساتھ ہی ساتھ نقل و حرکت پر پابندی نے صحافیوں کے لیے دشواریوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

وادی میں موجود ایک صحافی کا کہنا ہے کہ ’مواصلات کا نظام معطل ہونے کے باعث میں پچھلے تین دنوں میں کوئی خبر نہیں بھیج پایا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نئی دہلی میں موجود میرے ادارے کے دفتر سے مزید کچھ صحافی یہاں بھیجے گئے ہیں، میں یو ایس بی کے ذریعے معلومات ان کے حوالے کروں گا تاکہ دنیا کے علم میں لایا جا سکے کہ یہاں کیا ہو رہا ہے۔‘

ایک اور بین الاقوامی صحافی جو کہ راجھستان سے کشمیر کی صورتحال کی کوریج کے لیے آیا تھا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ساتھ 10 میموری چپس لایا تھا۔

صحافی نے اپنے قیام اور معمولات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’میں نے سری نگر ایئرپورٹ کے قریب رہائش اختیار کی ہے، یہاں سے سری نگر جانے والے افراد کے ذریعے میں دو چپس نئی دہلی بھجوا چکا ہوں، ہمارا کیمرہ مین ایئرپورٹ پر چپ وصول کرنے کے لیے انتظار کر رہا ہوتا ہے۔ یہاں پر ہونے والی صورتحال کی ویڈیوز بھیجنے کے لیے میرے پاس بس یہی راستہ ہے۔‘

مقامی ذرائع ابلاغ کے لیے حالات بدتر ہیں، وادی کے مقبول اخبارات گریٹر کشمیر، رائزنگ کشمیر، کشمیر مانیٹر، کشمیر لائف اور کشمیر ریڈر نے بھارتی حکام کے شدید ردعمل کے خوف سے گزشتہ تین دنوں سے اپنی ویب سائٹس اپ ڈیٹ تک نہیں کیں۔

’ہم اس وقت مزید کسی مشکل کا شکار نہیں ہونا چاہتے کیونکہ مقامی اخبارات حکام کے نشانے پر ہیں۔ ہمیں بلاوجہ ہراساں کیا جاتا ہے وہ بھی اس وقت جب قومی میڈیا پوری دنیا کو حقائق دکھا رہا ہے۔‘ یہ بات ایک اخبار کے انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کے سربراہ نے کہی۔

یاد رہے کہ ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کے صحافی کو سری نگر پولیس کی جانب سے کچھ دیر کے لیے حراست میں لے لیا گیا تھا۔ صحافی پولیس اسٹیشن کے قریب ویڈیو بنا رہا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *