محکمہ آثارقدیمہ کی غفلت و لاپرواہی سے رومی قبرستان تباہ

کراچی(رپورٹ: نعمت اللّٰہ بخاری)محکمہ آثارقدیمہ کی غفلت و لاپرواہی اورقبضہ مافیاکےسبب دوہزار برس قدیمی رومن لشکریوں کامدفن قبرستان تباہ ہوگیا اسکا انکشاف گذشتہ روزبھوانی بلوچستان اورکٙٹُّوگوٹھ نادرن بائی پاس کے تازہ ترین مطالعاتی دورے کے موقعہ پر ہوا۔

واضح رہے کہ قیام قپاکستان کےوقت محکمہ آثار قدیمہ نےآرسی ڈی ہائی وے پرواقعہ بھوانی بلوچستان اور نادرن بائی پاس کٹُّوگوٹھ کے قریب رومن لشکریوں کےدوہزارسال قدیمی قبرستان دریافت کرکے ان کےاطراف خاردارحفاظتی باڑھ اورآرائشی دروازہ تعمیر کرنے کےساتھ سیاحوں اور تاریخ کے طالب علموں کی آگہی کے لیئے باقائدہ معلوماتی تحریر سے مزین نیلے پس منظرکےحامل قد آدم بورڈ بھی لگائے تھے۔

جن پران قبروں میں مدفون سکندراعظم کےلشکریوں کی خطے میں آمداورپیش آنے والےحالات کی مختصر روداد درج تھی۔ جوراہگیر سیاحوں کو اپنی جانب راغب کرتی تھی اور جب وہ حقائق سے آگاہ ہوتے تھےتو جنگل میں منگل کا ساماں ہوجاتاتھا۔تاہم سروےکےدوران انکشاف ہوا کہ گذشتہ عشرے کے دوران محکمہ آثارقدیمہ کی عدم توجہی پر قبضہ مافیا کو کھل کھیلنےکاموقعہ ملا تواس نے قبروں کو مبینہ طور پر مشرف بہ اسلام کرکے نہ صرف متعدد قبریں مسمار کیں اور چاردیواری ختم کرکے متذکرہ قبروں کی اراضی نہ صرف اپنی رہائیش میں شامل کرلی بلکہ دیدہ دلیری کا یہ عالم ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اب نیارہنما بورڈ لگا دیا گیا ہے کہ” بلوچ قبائل کی قدیم قبریں۔” جب کہ ان قبروں پرکہیں بھی کوئی ایسی نشانی نظرنہیں آتی جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ مذکورہ قبریں مسلم بلوچ قبیلےکی ہیں۔

مذکورہ قبروں کی ساخت کا بور مطالعہ کیا جا ئے تو ان پر کنول کے بھول ،سورج،بھنور۔خیموں، ترشول ،صلیب واضح کھدے ہوئے نظر آتے ہیں۔

کسی قبر پربھی کھجور ،چاند ،تارا یاکوئی ایسانشان ان کے اسلامی پس منظر کی نشاندہی کرسکتاہوکہیں کعنے کھدرے میں بھی کندہ نییں۔ دوسری جانب یہی صورتحال عین محکمہ آثار قدیمہ کی عین ناک کے نیچے کٹُّو گوٹھ میں واقع رومی قبرستان کوبھی درپیش ہے۔ واضح ریے کہ محکمہ آثار قدیمہ اور نوادرات وسیاحت کے نئے دفاتر بھی رومی قبرستان متصل ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ آخر اس تاریخی اثاثے کے تحفظ کا ذمہ دار کون یے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *