(نیا قیدی (قادیانیوں کی خلاف برسر پیکار

مجاہد ملت مولانا عبدالستار خان نیازی مرحوم 

بقلم سنان علی

آج مجھے جیل میں آئے دو سال مکمل ہو چکے تھے۔۔۔۔دسمبر 1951 کی ایک شام تھی جب میں منشیات اسمگل کرتے پکڑا گیا تھا۔۔۔دس سال کی قید سن کر بھی میں گھبرایا نیں۔۔مجھے امید تھی کہ میرا گروہ مجھے یہاں سے چھڑوا لے گا لیکن آج دو سال ہو چکے ہیں مجھے چھڑوانے کوئ نہیں آیا۔۔۔۔اب میں اکثر تنہائ میں روتا ہوں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں۔۔۔نہ جانے کیوں اب اس کال کوٹھری سے میرا دل گھبرانے سا لگا ہے۔۔۔۔اب تو جیل سپریڈنٹ کو بھی مجھ پر ترس آنے لگا ہے۔۔۔۔۔۔وہ بھی اکثر مجھ سے حال احوال پوچھنے آجاتا ہے۔
1953 کا ہی ایک روشن دن تھا جب جیل میں ایک نیا قیدی آیا۔۔۔۔۔وہ باقی سب سے بہت مختلف تھا۔۔۔اس کا دراز قد،روشن چہرہ اور سر پر عمامہ اس کی شخصیت کو متاثر کن بنانے کیلئے کافی تھا۔۔۔۔۔اس کے چہرہ کا اطمینان دیکھ کر مجھے بہت حیرت ہوا کرتی تھی۔ ۔۔جیلر نے بتایا کہ اسے ریاست کے خلاف بغاوت کے جرم میں سزائے موت ہو چکی ہے۔۔۔۔۔لیکن میرا دل قطعی ماننے کو تیار نہ تھا کہ ایسا شخص باغی بھی ہو سکتااا ہے۔۔۔۔
اسے میرے ساتھ والی بند کوٹھری میں رکھا گیا تھا۔۔۔۔اس کے اور میرے کمرے کے درمیان ایک چھوٹا سا روشن دان تھا جس سے میرے لئے اس پر نظر رکھنا مشکل نہ تھاااا۔۔۔۔
میں اکثر اس کے معمولات دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاتا۔۔۔۔پانچ وقت نماز پڑھنے کے علاوہ ہر وقت وہ درود شریف کا ورد کر رہا ہوتاااا۔۔۔۔دو دن ایسے ہی گزر گئے۔۔۔ تیسرے دن شور کی آواز سن کر میری آنکھ کھل گئ۔۔۔۔۔اور سامنے کا منظر دیکھ کر میری چیخ نکل گئ۔۔۔۔
پانچ چھ افراد جو شکل سے کسی محکمے کے افسران لگتے تھے وہ اس شخص پر لاٹھیوں کی برسات کر رہے تھے اور وہ ہر لاٹھی پر الحمدللہ کہ اٹھتا۔۔۔تھوڑی دیر گزری تھی کہ ایک افسر کے اشارے پر وہاں سانپ لائے گئے۔۔۔۔اور اس کے برہنہ جسم پر سانپوں کو چھوڑ دیا گیا۔۔۔وہ سانپ اس قدر زہریلے تو نہ تھے کہ اس کی جان لیتے تاہم وہ اس کا جسم نوچ رہے تھے۔۔۔۔
افسر نے چلا کر کہا”نیازی!!کتنی تکلیفیں اٹھائے گاااا۔۔۔ہم تجھے رہا کرنے کو تیار ہیں۔۔۔قادیانیوں کے خلاف بیان نہ دے”
قیدی نے غضبناک آنکھوں سے افسر کو دیکھا اور چلا کر کہا
“اگر میں رہا ہو گیا تب بھی باہر جا کر پہلی بات یہی کرونگا کہ قادیانی کافر ہے”

میرے ذہن میں کئ سوالات اٹھ رہے تھے کہ یہ شخص کون ہے؟؟؟اور یہ افسر اسے کس جرم میں مار رہے ہیں؟؟؟اور یہ اب تک ڈٹ کر کیوں اور کیسے کھڑا ہے؟؟؟
ان کے جانے کے بعد مجھ سے رہا نہ گیا میں نے صدا لگائ
“اے اللہ کے نیک بندے!!تو کون ہے اور یہاں کیوں آیا ہے؟؟؟یہ لوگ تجھے کیوں مار رہے ہیں؟؟؟”
اس شخص کے چہرے پر ایک مسکراہٹ پھیل گئ اور وہ بولا
“قادیانی رسول اللہ کو آخری نبی تسلیم نہیں کرتے۔۔۔تمام مسلمان یہ مطابہ کر رہے کہ ان کو کافر قرار دیا جائے۔۔۔۔ملک میں تحریک ختم نبوت کی ابتداء ہو چکی ہے اور انشاءاللہ ہم تب تک امن سے نہ بیٹھیں گے جب تک قادیانی آئینی طور پر کافر قرار نہیں دیئے جاتے”
میرے تن بدن میں آگ سی لگ چکی تھی۔۔۔میں گناہگار ضرور تھا لیکن سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انتہا کی عقیدت رکھتا تھا۔۔۔اب مجھے رہ رہ کر خود پر غصہ آنے لگا کہ میں منشیات کے برے کام میں کیوں پڑا ورنہ آج میں بھی ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہوتاااا۔۔۔
میں نے اس شخص سے اس کا نام دریافت کیا
تو اس شخص نے مختصر سا جواب دیا
“عبدالستار خان نیازی”
یہ نام سن کر میرے جسم پر سکتہ طاری ہو گیااااا۔۔۔میں کچھ اور کہنے کی جسارت نہ کر سکاااا۔۔۔۔میری آنکھیں نم ہو چکی تھیں۔۔۔میں زور سے چیخنا چاہتا تھا لیکن آواز میرے حلق میں ہی اٹک گئ تھی۔۔۔۔
میں اس شخص کو جانتا تھا۔۔۔۔میں نے اپنے بچپن میں ہر ایک کی زبان پر اس کا نام دیکھا تھا۔۔۔یہ وہی تھا جس نے قائداعظم کو پنجاب کے کئ اضلاع سونپے تھے۔۔۔۔یہ وہی تھا جسے قائد اعظم بھی کہا کرتے تھے
“مولانا آپ کی تحریکوں سے پاکستان معرض وجود میں آیا”
یہ وہی تھاا جس کا شمار مسلم لیگ کے قائدین میں ہوتا تھاااااا۔۔۔۔اور آج یہ میرے سامنے ایک تاریک کوٹھری میں موجود تھاااا۔۔۔اللہ رسول کی محبت اسے کہاں لے آئ تھی۔۔۔۔اور پھر بےاختیار میری زبان سے اس کیلئے دعائیں نکلنے لگیں۔۔۔۔

اگلے دن وہ ایمان فراموش افسر پھر آ ٹپکے اور اب کی بار میں چلا اٹھا
“او ظالمووو!تمہیں شرم نہیں آتی تم کسے مار رہے ہو؟؟؟کیا تمہیں نار جہنم نہیں ڈراتی؟؟”
لیکن ان سنگدلوں پر اثر نہ ہوا اور مولانا کو آج گھنٹوں برف کے بلاکوں پر لٹایا گیا اور جب مولانا بے ہوش ہو گئے تو انہیں چھوڑ کر چلے گئے۔۔۔میں رو رو کر مولانا کو آواز لگا رہا تھااا۔۔۔۔

جب تشدد بڑھنے لگا تو مولانا پر کھانا پانی بھی بند کر دیا گیا لیکن مولانا کو نہ پیچھے ہٹنا تھا نہ وہ ہٹے۔۔۔۔
وقت تیزی سے گزر گیاااا
چند سال بعد مولانا رہا ہو چکے تھے لیکن یہ بات میں ہی جانتا تھا کہ کونسا ایسا ظلم ہے جو ان کے جسم پر نہ ڈھایا گیاااا۔۔۔۔
مجھے اب مولانا کی یاد بےقرار رکھتی تھی۔۔۔میں بھی ختم نبوت کی عظیم المرتبت تحریک میں شامل ہونا چاہتا تھاااا۔۔۔۔آج 5 جنوری 1961 ہے۔۔۔۔۔کل صبح مجھے رہا کر دیا جائے گاااا اور میں ابھی سے تصورات کی دنیا میں خود کو مولانا کے شانہ بشانہ تاجدار ختم نبوت کی صدا بلند کرتے دیکھ رہا ہوں۔۔۔۔بقلم سنان علی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *