سندھی ہاری اور مزدور مہاجر

تحریرو ترتیب؛) آغا خالد)

حبیب جالب بھی دہلی کے مہاجر تھے ،
پہلے کراچی میں آباد ہوئے پھر والد سے نارض ہوکر لاہور چلے گئے اور وہیں کے ہورہے ان دنوں سندھ میں مہاجر سندھی تقسیم کی بجائے غریب اور امیر کی تفریق کے خلاف ترقی پسندوں کے پلیٹ فارم سے جدوجہد ہوتی تھی اور وڈیروں کے خلاف سندھی مہاجر یکساں ہوکر برسر پیکار تھے اس کا احوال جالب اپنی آپ بیتی : جالب بیتی : میں یوں بیاں کرتے ہیں کہ سندھ کے معروف ہاری رہنما اور مزدور جدوجہد کے لاثانی کردار حیدربخش جتوئی کو الیکشن جتوانے میں اپنے دوستوں کے ساتھ کئی بار حیدرآباد گیا جہاں ان کے مقابل ایوب کھوڑو تھے کھوڑو نے ایک شب چہل قدمی کرتے ہوئے جالب اور ان کے دوستوں سے پوچھا تم طالب علم یہاں کیا کرنے آتے ہو، جالب نے حسب عادت طیش میں کہا، ہم تمھاری بنیادیں اکھاڑنے یہاں آتے ہیں ۔۔۔بس یہ جملہ ایوب کھوڑو جیسے بڑے آدمی کے لئےچیلنج بن گیا پھر جالب کہتے ہیں کھوڑو نے اس مکان کو آگ لگوادی جس میں ہم رہ رہے تھے اور ساتھ میں حیدر بخش جتوئی کی گاڑی بھی جلوادی ، یہ تھی سندھی وڈیرے کی مہاجروں سے نفرت کی ابتدا ، حبیب جالب اپنی خود نوشت : جالب بیتی میں اپنی ہجرت یوں بیان کرتے ہیں کہ ہم دہلی سے ٹرین میں سوار ہوئے اور کراچی پہنچ گئے راستے میں امرتسر اسٹیشن پر ہم سے پہلے والی ٹرین کٹی پڑی تھی لاشیں اور انسانی لہو سے ان کے گھر والے خوف زدہ ہورہے تھے اور یہی حال خود ان کا بھی تھا کہا گیا ٹرین کے ڈبے سے باہر نہ نکلیں اور لائیٹیں بھی بجھادی گئی تھیں جس سے خوف میں مزید اضافہ ہوگیا، کراچی پہنچ کر انہیں جیکب لائیں کے کیمپ میں رہنا پڑا پھر ان کے بھائی جو سرکاری ملازم تھے کو کواٹر الاٹ ہوگیا اور یوں وہ لوگ صاحب گھر ہوگئے حیدر بخش جتوئی کے الیکشن میں بھی وہ اپنی شاعری کی پہچان کے حوالے سے گئے تھے یوں بھی وہ ترقی پسند شعراء سے متاثر اور ان کے شاگرد تھے اور جتوئی بھی لیفٹ کا بڑا نام تھا اس لئے جالب لکھتے ہیں کہ میں نے کھوڑو کے ظلم پر ایک نظم لکھی اور حیدرآباد کے ایک بڑے جلسے میں سناکر خوب داد سمیٹی ،

حیدر بخش جتوئی رے بھیا حیدر بخش جتوئی
ہاری کا غم کھانےوالا نہ دوجا کوئی
حیدربخش جتوئی
ہم لاکھوں کی پونجی لوٹے جاگیردار اکیلا
اچھا پہنے. کارمیں گھومے . ٹھاٹ کرے البیلا
ہم تو روئیں بھوک کے مارے اور اس کے گھر میلا
آپ تو اوڑھے شال دوشالہ ہمیں ملے نہ لوئی
حیدر بخش جتوئی رے بھیا حیدر بخش جتوئی

محبت ،خلوص، پیار ،ہمدردی اب صرف کتابوں ہی میں رہ گیا ہے جبکہ جالب کے بچپن سے نوجوانی تک کے قصوں میں یہ گلیوں میں ننگے پائوں رلتا تھا،
حیدر بخش جتوئی کے علاوہ ایک اور جالب کے بچپن کےدوست شاعر فرید جاوید تھے جو کسی محکمہ میں کلرک بھی تھے اور شاعر بھی اور وہ جالب سے بھی زیادہ ایثار کے داماد تھے، اپنا کواٹر ایک نابینا علم دوست شخصیت میر جواد حسین زیدی کو دیدیا اور خود فٹ پاتھوں پر سوتے تھے جبکہ میر جواد فیملی کے ساتھ ان کے کواٹر میں رھتے تھے میر جواد بھی کوئی معمولی آدمی نہ تھے ان سے اپنی شاعری پر اصلاح لینے جوش و جگر آیا کرتے تھے پہلے تو جالب نے فرید کو اپنے کواٹر کے برابر جھونپڑا ڈال دیا پھر ایک ایسا واقعہ ہوا جس کااثر جالب نے ایسا لیا کہ گھر چھوڑ دیا اور پھر پلٹ کر والد کے گھر نہ گئے،
اس کا ماجرا جالب یوں سناتے ہیں کہ ایک روز میں اور والد ایک ہی چارپائی پر ایک ہی رضائی میں سو رہے تھے کہ والد کچھ وقفے کے لئے اٹھ کر باہر گئے اور اس دوران فرید میرے کمرے میں آیا اور مجھے گالیاں بکتے ہوئے بولا ، کمبخت خود رضائی اوڑھے سورہا ہے اور دوست ایک کمبل میں کپکپا رہا ہے، یہ کہ کر اس نے رضائی اتاری ، اور نودوگیارہ ہوگیا کچھ دیر بعد والد صاحب کمرے میں داخل ہوئے تو میں بستر پر اکڑوں بیٹھا ہوا تھا انھوں نے رضائی کا پوچھا تو میں خاموش رہا وہ غصے میں چیخے تو میں نے بتادیا والد صاحب طیش میں اس کے جھونپڑے میں جا گھسے فرید کمبل پر رضائی اوڑھے لیٹا ہوا تھا والد صاحب نے اس کی رضائی پر جوتیاں برسانا شروع کردیں وہ اباجی اباجی پکارتا رہ گیا پھر والد صاحب نے رضائی کھینچی اور آکر لیٹ گئے مجھے شدید قلق تھا اور ندامت بھی کہ ، اپنے دوست کو رضائی بھی نہ دے سکا بس اگلی صبح میں گھر سے ہمیشہ کے لئے نکل گیااور اگر حبیب جالب اس روز گھر نہ چھوڑتا تو تاریخ نامکمل رہتی اور ہماری قوم جالب جیسے عظیم روایات کے باغی شاعر سے محروم رہتی شاید؟؟؟؟؟؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *