کراچی:گرین لائن منصوبہ دسمبر کے بجائے مارچ 2020 میں مکمل ہوگا

اسلام آباد (این اے) حکومت سندھ نے کراچی میں نجی کمپنی کے تعاون سے بس سروس چلانے کے لئے ایک بار پھر نئی تاریخ دے دی ہے اور تاخیر نے اس کی لاگت میں بھی کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔

  کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری میں صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری  سندھ ممتاز علی شاہ نے کہا کہ گرین لائن منصوبہ رواں برس دسمبر کی بجائے اگلے سال مارچ میں مکمل ہوگا۔

صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ اویس قادر شاہ نے کہا ہے کہ تیرہ روٹس پرساٹھ بسیں اگست تک فعال ہو جائیں گی لیکن شہری اب حکومت سندھ کے کسی وعدے پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

دوسری جانب سندھ کے سابق وزیر ٹرانسپورٹ ناصر شاہ کے بعد موجودہ وزیر ٹرانسپورٹ اویس قادر شاہ بھی تاریخ دے کر پھنس گئے۔

43eeeڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کو تاخیر کی وجہ بتانے والے وزیر موصوف کا اب یہ دعوی ہے کہ پہلے مرحلے میں تیرہ روٹس پر ساٹھ بسیں اگست میں چلنا شروع ہو جائیں گی۔

اویس قادر شاہ کے دعوی اپنی جگہ لیکن کراچی کے شہری اب سندھ حکومت کے کسی وعدے پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

سندھ  سرکار کراچی میں ڈائیوو کے تعاون سے 42 روٹس پر ایک ہزار نئی مسافر بسیں چلانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

منصوبے کے مطابق تمام بسیں نہ صرف اے سی ہوں گی بلکہ ماحول دوست بنانے کے لئے ہائبرڈ ڈیزل کی جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہوگا۔

واضح رہے کہ رواں سال جنو360ری میں خبر آئی تھی کہ وفاق کے زیر انتظام شہر قائد میں زیر تعمیر گرین لائن بس منصوبے کے دوسرے مرحلے کو جون 2019 میں مکمل کر لیا جائے گا۔

ہم نیوز کو موصول اطلاعات کے مطابق دوسرے مرحلے میں نمائش سے ٹاور تک سڑک کی تعمیر کی لیے ایشیائی ترقیاتی بنک کا دیا گیا نیا ڈیزائن منظور کر لیا گیا ہے جس کے مطابق ابمنصوبے کی تعمیرات زمین پر ہی ہوں گی۔

تعمیر کی جانے والی سڑک بس ریپڈ ٹرانزٹ کی دیگر لائنزکے لیے کامن کوریڈور کے طور پر استعمال کی جا سکے گی۔

منظور کردہ نئے ڈیزائن میں ایم اے جناح روڈ پر کراسنگ کے لیے دو انڈر پاسز اور دو فلائی اوور بھی بنائے جائیں گے۔

2016 میں بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کی پہلی کڑی یعنی گرین لائن کی تعمیر کا کام شروع ہوا تو منصوبے کے مطابق اس کا روٹ سرجانی ٹاؤن سے بزنس ریکارڈ روڈ تک تھا اور اس پر 6 ارب روپے لاگت آنی تھی لیکن منصوبے کے روٹ کو پہلے جامع کلاتھ اور پھر ٹاور تک بڑھا دیا گیا جس کی وجہ سے منصوبے کی لاگت 26 ارب تک پہنچ گئی۔

بس منصوبے کے پہلے مرحلے میں سرجانی ٹاؤن سے نمائش تک 80 فیصد تعمیراتی کام مکمل کیا جا چکا ہےلیکن سندھ حکومت کے اعتراض پر دوسرے مرحلے کا کام رک گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *