مودی کی الٹی گنگا: ہجومی تشدد پرآواز اٹھانے والے مسلمان گرفتار

نئی دہلی(ویب ڈیسک) بھارت کی انتہا پسند ہندو جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے دور میں ’الٹی گنگا‘ اس طح بہنا شروع ہوئی ہے کہ ہجومی تشدد کے ذریعے مسلمانوں کو قتل کرنے اور انہیں انسانیت سوز بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے والے انسان دشمنوں کو گرفتار کرنے اور انہیں لگام ڈالنے کے بجائے بھارتی پولیس نے ان بے گناہ مسلمانوں کو پابند سلاسل کرنا شروع کردیا ہے جو پورے ملک میں بڑھتے ہوئے تشدد کے خلاف پرامن احتجاج کرنے نکلے تھے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں سے اکثریت کی عمریں 18 سال سے بھی کم ہیں۔

بے گناہ مسلمانوں کی گرفتاریوں کے خلاف مسلمان تنظیموں نے بھرپور احتجاج شروع کردیا ہے جس میں عوام الناس کی بڑی تعداد شامل ہے۔ اس ظلم پر مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور وہ سڑکوں پہ نکل کر صدائے احتجاج بلند کررہے ہیں۔

بھارت کے ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے کہ میرٹھ کے بعد اب الہٰ آباد میں بھی ہجومی تشدد کے خلاف ہونے والے احتجاج میں شریک نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر گرفتار کیا گیا ہے۔

الہٰ آباد میں ہجومی تشدد کے خلاف مسلمانوں نے 26 جون کو بھرپور احتجاج کیا تھا۔ یہ احتجاج قرب و جوار کے دیگر علاقوں میں بھی ہوا تھا۔

پولیس نے سخت کارروائی کرتے ہوئے احتجاج میں شرکت کرنے والے نوجوانوں کی اکثریت کو ان کے گھروں پہ چھاپے مار کر اٹھا لیا ہے اور تاحال متاثرہ خاندانوں کو گرفتار شدگان کے متعلق کسی بھی قسم کی معلومات فراہم نہیں کررہی ہے۔ یہ وہی طریقہ ہے جو قابض بھارتی افواج مقبوضہ وادی کشمیر میں عرصے سے اپنائے ہوئے ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق مجلس اتحاد المسلمین نے خبردار کیا ہے کہ اگر گرفتار نوجوانوں کو فوری طورپر رہا نہیں کیا جائے گا تو پھر سڑکوں پر بھرپوراور شدید احتجاج ہوگا۔

گرفتار مسلمان نوجوانوں کی رہائی کے لیے جمعیت علمائے ہند نے بھی کوششیں شروع کردی ہیں اور اس کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے پولیس حکام سے ملاقات کی ہے۔

بھارتی پولیس کے اسی رویے کے باعث ہجومی تشدد کا سلسلہ تھم نہیں سکا ہے۔ جھاڑ کھنڈ میں بھی انتہا پسند ہندوؤں نے تین مسلمان نوجوانوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ان سے ہندو آنہ نعرہ ’جے شری رام‘ لگوایا۔

خبررساں ایجنسی کے مطابق بھارتی ریاست جھاڑ کھنڈ میں ریاستی طاقت کے زعم میں مبتلا جنونی ہندوؤں نے عامر وسیم، الطاف علی اور علی احمد نامی مسلمان نوجوانوں کو زدوکوب کیا اور تشدد کرتے ہوئے ان سے زبردستی جے شری رام کا نعرہ لگوایا۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق انتہا پسند ہندوؤں نے تشدد کے لیے لاٹھی، ڈنڈے، گھونسے اور لاتوں کا آزادانہ استعمال کیا جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوگئے البتہ عامر وسیم بھاگ کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوا اور تھانے جا کر صورتحال سے آگاہ کیا لیکن مظلوموں کی داد رسی کے لیے پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق مہاراج گنج نامی علاقے میں ہائی اسکول کے طالب علم کو رسّی سے باندھ کر پیٹا گیا۔ متاثرہ طالبعلم کے دوستوں کا کہنا ہے کہ اسے کمرے میں بند کرکے راڈوں سے بھی مارا گیا۔

بھارت کے ضلع جونپور میں ایک پڑوسی نے اپنی پڑوسن کو لاٹھیوں سے پیٹ کر شدید زخمی کردیا۔

بھارت میں نریندر مودی کے دوبارہ وزیراعلیٰ بننے کے بعد سے ہجومی تشدد کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا ہے جو روز بروز بڑھتا جا رہا ہے اور جس کا زیادہ تر نشانہ مسلمان بن رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *