اسرائیلی فوجی افسر نے غزہ پٹی میں اپنے ساتھی کو مار ڈالا

بیت المقدس(ویب ڈیسک) فلسطینی اراضی پر قابض اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ نومبر 2018 میں غزہ پٹی میں اس کی فورسز کے خفیہ آپریشن میں حماس تنظیم کے عناصر پر فائرنگ کرتے ہوئے ایک اسرائیلی فوجی افسر “غلطی سے” مارا گیا۔

یہ بات اتوار کے روز اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتائی گئی۔ یہ بیان 11 نومبر 2018 کو پیش آنے والے واقعے کی عسکری تحقیقات کے جزوی نتائج سے متعلق تھا۔ بیان کے مطابق اسرائیلی فوج کا ایک افسر لیفٹننٹ کرنل (+) سر میں اپنے ہی ایک ساتھی افسر لیفٹننٹ کرنل (++) کی فائر کی گئی گولی کا نشانہ بن کر زخمی ہو گیا۔ لیفٹننٹ کرنل (++) اُس وقت حماس تنظیم کے ارکان پر فائرنگ کر رہا تھا جنہوں نے اسرائیلی فوجیوں کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے رکھا تھا۔

اسرائیلی فوج کی ترجمان نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ اسرائیلی افسر کی جان لینے والی گولی لیفٹننٹ کرنل (++) کی جانب سے غلطی سے چل گئی تھی۔

اسرائیلی اسپیشل فورسز کے یونٹ کی جانب سے کی گئی مذکورہ کارروائی کو انٹیلی جنس آپریشن کے طور پر پیش کیا گیا تھا جس کے دوران غزہ پٹی کے جنوب میں خان یونس کے نزدیک اسرائیلی فوجیوں کا پتہ چلایا گیا۔

اس واقعے کے بعد ہونے والی لڑائی میں سات فلسطینی جاں بحق ہو گئے جن میں غزہ پٹی پر کنٹرول رکھنے والی حماس تنظیم کا ایک عسکری کمانڈر شامل تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *