4کروڑ ڈالر کلیکشن ، صرف1کروڑ اسٹیٹ بینک میں جمع

فاریکس کمپنیاں یومیہ 4کروڑ ڈالرز میں سےصرف1کروڑڈالرز اسٹیٹ بینک میں جمع کراتی ہیں۔باقی ماندہ 3کروڑ امریکی ڈالرز کو حوالہ ہنڈی کے کاروبار کے لیے استعمال کیا جاتا ہےجو منافع بخش کاروبار ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کی بیشتر رجسٹرڈ فاریکس کمپنیاں کم از کم 4کروڑ ڈالرز (پرائیویٹ مارکیٹ کے مطابق 4کروڑ20لاکھ ڈالرز)ایک ہی روز میں جمع کرتی ہیں۔جب کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں صرف ایک کروڑ ڈالرز جمع کرائےجاتے ہیں۔باقی ماندہ 3کروڑ امریکی ڈالرز کو حوالہ ہنڈی کے کاروبار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو کہ اس طرح کی ٹرانزیکشنز کے لیے خاصا منافع بخش کاروبار ہے۔حوالہ ہنڈی کے کاروبار سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ اگر فاریکس کمپنیاں اوپن مارکیٹ سے خریدے گئے ڈالرز اسٹیٹ بینک میں جمع کراتی ہیں تو انہیں ایک سے دو روپے فی ڈالر منافع ہوتا ہے۔اگر وہ اس رقم کو حوالہ ہنڈی کے لیے استعمال کرتے ہیں تو انہیں چار سے پانچ روپے فی ڈالر منافع ہوتا ہے۔فاریکس مارکیٹ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ مارکیٹ سے خریدے گئے ڈالرز زیادہ تر فضائی راستے کے ذریعے بیرون ملک بھجوائے جاتے ہیں اور زیادہ تر ایجنٹس ہر روز تین مختلف مقامات پر جاتے ہیں اور اگلے روز واپس آجاتے ہیں۔ان میں سے دو مقامت مشرق وسطیٰ اور مشرق بعید ہیں۔اس

کاروبار سے جو منافع ہوتا ہے وہ تمام فاریکس کمپنیوں میں برابر تقسیم کیا جاتا ہے اور ان کمپنیوں کے ایجنٹس روزانہ نقدی کو بیرون ملک لے کر جاتے ہیں ۔ان میں سے اکثریت کراچی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے جاتے ہیں۔ایئرپورٹ پراسمگلنگ کی روک تھام کے لیے تعینات تمام ایجنسیاں اس گھنائونے کھیل کا حصہ ہیں۔وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق، اس مسئلے کو اسلام آباد میں اعلیٰ سطح پر متعدد مرتبہ اٹھایا جاچکا ہے اور ہر مرتبہ اس کاروبار کی روک تھام کے لیے ہدایات جاری کی جاتی رہی ہیں، تاہم ان پر کبھی عمل درآمد نہیں ہوا۔اگر اندازاًایک ارب ڈالرز ماہانہ بلیک مارکیٹ کے ذریعے بیرون ملک جاتا ہے تو سالانہ 12ارب ڈالرز پاکستان سے بیرون ملک جاتے ہیں۔جس کے بعد یہ نقدی بینکوں کے ذریعے واپس آتی ہے ۔جس میں سے زیادہ تر ٹیلی گرافک ٹرانسفر (ٹی ٹی)کے ذریعے آتے ہیں۔واپسی پر اس نقدی کا 50فیصد فاریکس ڈیلرز کے پاس رکھا جاتا ہے اور باقی 50فیصد اسٹیٹ بینک میں جمع کرایا جاتا ہے۔دی نیوز کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق غیر ملکی کرنسی کی صورت میں جو رقم روکی جاتی ہے وہ درآمد کنندگان کو فراہم کی جاتی ہے جو انڈر انوائسنگ درآمدات کی ادائیگی کے لیے استعمال کرتے ہیں اور وہ بیرون ممالک ادائیگیاں یا پھر دوسری جگہ جائداد خریدنے میں استعمال کرتے ہیں۔دوسری جانب پاکستان کو آئی ایم ایف سے سالانہ دو ارب ڈالرز یا تین سال میں چھ ارب ڈالرز کے حصول کے لیے سخت شرائط ماننا ہوگی۔کراچی کی ایک معروف کاروباری شخصیت نے دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعداد وشمار تقریباً درست ہیں اور اس غیر قانونی کاروبار کی روک تھام کی سخت ضرورت ہے جو کہ اس وقت روپے کی قدر میں کمی کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بصورت دیگر مہنگائی قابو سے باہر ہوجائے گی اور اس سے کاروبار بھی متاثر ہوگا اور عام آدمی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے تجویز دی ہے کہ اسٹیٹ بینک کو تمام ڈالر ز اور دیگر کرنسیوں کو فاریکس ایجنٹس سے روزانہ طے شدہ ریٹ پر حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے اور ایسا اسی صورت ہوسکتا ہے جب اسٹیٹ بینک اور فاریکس ڈیلرز کے درمیان سب اچھا ہو۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر اسٹیٹ بینک فاریکس مارکیٹ سے ڈالرز خریدتا ہے تو اس سے خوف وہراس پیدا ہوگا جو کہ زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *