افغانستان میں قیام امن کے لیے “لاہور پراسیس” سلسلے کی پہلی کانفرنس کا آغاز

لاہور(نیوز الرٹ) لاہور مرکز برائے امن و تحقیق کے سربراہ، سابق سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد خان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں جنگ و جدل ختم کر کے امن کو موقع دینا ہو گا۔

کانفرنس میں شریک نمایاں شخصیات میں سابق افغان وزیراعظم و حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار، سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی افغانستان و سابق گورنر استاد عطا محافغانستان کے متعدد سینیٹرز اور ارکان اسمبلی بھی کانفرنس کا حمد نور، حزب وحدت مردم افغانستان کے استاد محمد محقق، سابق وزیر دفاع وحید اللہ سبوران، سابق گورنر حاجی عزیز الدین، افغان امن جرگہ کے سربراہ محمد کریم خلیل، قومی اسلامی فرنٹ کے سربراہ پیر سید حامد گیلانی سمیت 18 افغان سیاسی جماعتوں اور دھڑوں کے 57 وفود شریک ہیں۔

افغان امن کانفرنس کے استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے شمشاد احمد خان نے کہا کہ افغان سر زمین پر تمام سیاسی جماعتوں اور دھڑوں کو مذاکرات کے لیے آگے بڑھنا ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پرُامن اور خوش حال خطے کے لیے افغان امن ناگزیر ہے، علاقائی خصوصاً پاکستان کا امن و استحکام، براہ راست افغان امن سے جڑا ہوا ہے۔

شمشاد احمد خان نے یہ بھی کہا کہ پرُامن، متحد، مستحکم، خوشحال ترقی کرتا افغانستان، پاکستان کے مفاد میں ہے، افغانستان، پاکستان کے لیے وسطِ ایشیاء کا دروازہ بھی ہے۔

لاہور پراسیس میں افغان سیکیورٹی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور عوامی رابطوںafghan-conference1 اور مستقبل کے لیے تجاویز کا تبادلہ خیال ہوگا پراسیس سے مستقبل کی حکومتوں کے درمیان اعتماد سازی کی فضاء قائم کرنے میں مدد ملے گی، افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی کے حوالے سے بات ہوگی، کانفرنس سے تجارت، روابط، صحت اور دیگر شعبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کا موقع فراہم کرے گی۔ مستقبل میں لاہور پراسیس میں طالبان کی شمولیت کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *