اپوزیشن نے حکومتی بجٹ کو مسترد کردیا ہے۔

اسلام آباد: 

قومی اسمبلی میں اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں اجلاس جاری ہے جس میں اپوزیشن نے حکومتی بجٹ کو مسترد کردیا ہے۔

اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا آغاز ہوا تو چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آصف زرداری، سعد رفیق، علی وزیر اور محسن داوڑ کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ  ہم روز پروڈکشن آرڈرز کا مطالبہ کرتے ہیں، اسپیکر کی کرسی سے ہماری توقعات پوری نہیں ہورہی ہیں، آپ اسیر ارکان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کریں۔ پارلیمنٹ میں سابق مصری صدر محمد مرسی کیلئے دعا اور فاتحہ خوانی بھی کرائی گئی۔

قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ عوام دشمن بجٹ کو فی الفور رد کرتے ہیں، بجٹ ظلم کی تلوار ہے جو عام آدمی کی گردن کاٹنے کے لیے آیا ہے اور عوام کے لیے صرف مایوسی کا پیغام لے کر آیا ہے، حکومت تو چار ہزار ارب اکٹھے نہیں کرسکی، بتائیں ٹیکس کی مد میں 5500 ارب روپے کیسے اکٹھے کریں گے، آئی ایم ایف کے پاس جا کر عمران خان قوم کو خودکشی کے قریب لے گئے ہیں، حکومت بجٹ واپس لے کر عوامی خواہشات کی عکاسی کرنے والا بجٹ دوبارہ پیش کرے۔

شہباز شریف نے بجٹ ترامیم پیش کرتے ہوئے کہا کہ مزدور کی کم از کم تنخواہ 20 ہزار روپے کی جائے، 16 گریڈ کے ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافہ کیا جائے، ایک لاکھ ماہانہ تنخواہ والے صارفین کو ٹیکس استثنا دیا جائے، بجلی و گیس کی قیمتوں کو دوبارہ مئی 2018 کی سطح پر واپس لایا جائے،

اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے حکومت کو میثاق معیشت کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی سے چارٹر آف اکانومی کیلئے تیار ہیں، عمران خان الزام تراشی چھوڑ کر ملکی ترقی کی بات کریں، وزیراعظم ملکی ترقی کے لیے ایک قدم بڑھائیں گے تو اپوزیشن دو قدم آگے بڑھائے گی۔

قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ2013 میں عوام کی ووٹوں سے ن لیگ حکومت میں آئی تاہم اقتدار سنبھالتے ہی سر منڈواتے ہی اولے پڑے، جب حکومت ملی بجلی20،20گھنٹے جاتی تھی، جذبات میں آکر کہا 6 مہینے میں بجلی کا بحران ختم کر دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے ہمارے خلاف بدترین سازش کا جال بنا تاہم ہم نے نہایت تحمل و برداشت سے اس وقت کو گزارا، چینی صدر نے ستمبر 2014 میں تشریف لانا تھا، پی ٹی آئی رہنماؤں سے کہا 3 دن کے لیے ڈی چوک سے اٹھ جائیں، پی ٹی آئی کی وجہ سےچینی صدر نے دورہ ملتوی کردیا تاہم دہشت گردی،معیشت کی بہتری کیلئے چین ہماری مدد کو آیا، پی ٹی آئی نے چینی صدر کا دورہ ملتوی کراکےملک دشمنی کا ثبوت دیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ 4 دن ہاؤس کا وقت ضائع کیا گیا، بجٹ سیشن اہم ترین موقع ہے، ایوان میں موجود لوگ عوام سے ووٹ لے کر آئے ہیں لہذا اسپیکر قومی اسمبلی کےکندھوں پر بھاری ذمہ داری ہے، کل بھی آپ سے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری، سعد رفیق اور محسن داوڑ ایوان کے ممبر ہیں، ان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے جائیں، اراکین لاکھوں ووٹ لے کر عوام کے جذبات کی ترجمانی کے لیے آتے ہیں، اراکین کی حاضری یقینی بنانا اسپیکر کی ذمہ داری ہے۔ ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *