دودھ کا دودھ پانی کا پانی

انتظار بہت کرنا پڑا‘ طبیعت مکدّر ہوئی مگر تقریر سن کر مزہ آ گیا۔ نو دس ماہ گزرنے کے باوجود عمران خان بہتر میڈیا ٹیم کیوں نہیں بنا سکے ؟اور ہر بار دودھ میں مینگنیاں کیوں پڑ جاتی ہیں‘ اس سوال کا جواب ڈھونڈے سے نہیں مل رہا۔ تقریر اگر بروقت نہ ہو پائی تو دوسرے دن کرنے میں کیا حرج تھا ؟رات بارہ بجے جب اسی نوے فیصد لوگ خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے یہ تقریر نشر کرنے کی کیا مجبوری تھی ؟اور دوران تقریر تین بار تسلسل کا ٹوٹنا؟ کم از کم اپنی صحافتی زندگی میں کسی سربراہ حکومت اور مملکت کے ساتھ پی ٹی وی اور میڈیا ٹیم کو یہ ناروا سلوک کرتے نہیں دیکھا ‘یوں لگا کہ وزیر اعظم کی تقریرسنسر شپ کا شکار ہے۔ خیر یہ جملہ معترضہ تھا وزیر اعظم ناقص مشیروں میں نہ گھرے ہوتے تو میڈیا اور عوامی سطح پر اتنی بھد کیوں اڑتی اورساکھ سے محروم مخالفین کو نالائقی کا طعنہ دینے کی جرات کیسے ہوتی۔ خوف خدا اور شرم و حیا سے عاری چند مفاد پرستوں کوچھوڑ کر پوری قوم جانتی ہے گزشتہ تین چار عشروں میں اس ملک کو مردارخور گدھوں کی طرح نوچا گیا۔ عمران خان نے سچ کہا قومی معیشت اور عوامی معیار زندگی میں ابتری اورچند حکمران خاندانوں کے کاروبار میں روز افزوں اضافہ ع اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا حیرت انگیزطور پر یہ کاروبار اس وقت پھلا پھولا جب یہ برسر اقتدار تھے۔ اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ کاروبار ملک میں چل رہا ہے اور ملیں نوٹ بھی اندرون ملک چھاپ رہی ہیں مگر پیسہ ترسیلات زر کی شکل میں بیرون ملک سے آ رہا ہے اور وہ بھی کسی فالودے والے ‘ پاپڑ والے اور ریڑھی والے کے اکائونٹس میں۔ یہ راز قوم پر آج تک نہیں کھلا کہ حکمران خاندانوں کو بیرون ملک سے پیسہ منگوانے کے لئے جعلی اکائونٹس اورگمنام لوگوں کا سہارا کیوں لینا پڑا؟ خطیر رقوم وہ اپنے قانونی اکائونٹس کے ذریعے منتقل کیوں نہیں کرتے؟ قومی وسائل کی لوٹ مار کا سلسلہ تو عشروں سے جاری ہے۔ ایسے ارکان اسمبلی کی تعداد درجنوں میں ہے جو 1985ء میں پہلی بار منتخب ہوئے تو ان کے پاس ذاتی سواری تھی نہ لاہور میں قیام کے لئے معقول مسکن۔ کئی ایک تو پیپلز ہائوس میں سرکاری رہائش نہ ملنے پر اپنے دوست احباب کے ہاں شب بسری کرتے کہ کرائے پر گھر لینے کی سکت نہ تھی مگر 1988ء میں کرپشن کے الزام میں اسمبلی برخاست ہوئی تو یہ مہنگی گاڑیوں اور بنگلوں کے مالک بن چکے تھے اور جنرل ضیاء الحق کی تقریر سن کر سب نے یقین کیا کہ واقعی لوٹ مچی تھی‘ لوٹ‘ 1970ء سے 1977ء کے دوران بھی یہی ہوا مگر 1985ء کے بعد جو تھوڑی بہت جھجک تھی ‘وہ ختم ہو گئی۔ کرپشن کے حمام میں صرف سیاستدان اور منتخب عوامی نمائندے ننگے نہیں‘ سول اور خاکی بیورو کریسی نے بھی ات مچائے رکھی‘ لاہور‘ کراچی اور اسلام آباد کے مہنگے علاقوںمیں عالیشان بنگلے اور قیمتی پلازے صرف سیاستدانوں کے ہیں نہ بیرون ملک جائیدادیں عوامی نمائندوں اور ان کے عزیز و اقارب کی۔ امریکہ اور یورپ کے تعلیمی اداروں میں سول و خاکی بیورو کریٹس کے بچے زیر تعلیم ہیں اور بعض نے حسب توفیق نیشنلٹی لے کر گھر تک بنا رکھے ہیں لیکن منتخب عوامی نمائندے اور حکمران اگر نہ چاہیں ‘ شریک جرم نہ ہوں تو ماتحت چوری چھپے اپنا منہ کالا خواہ کر لیں‘ کروڑوں اور اربوں کی کرپشن کا نہیں سوچ سکتے۔ قومی خزانے پر ہاتھ صاف کرنے کا کاروبار باہمی ملی بھگت سے چلتا ہے‘ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اور قوم کے خون پسینے کی کمائی کا پیسہ ہو یا قومی عزت نفس کے منافی شرائط پر لیا گیا قرضہ اسی صورت میں عوامی فلاح و بہبود کے بجائے ذاتی خاندانی اکائونٹس میں منتقل ہوتا ہے جب صدر‘ وزیر اعظم‘ وزراء اعلیٰ وزیر‘ مشیر سول و خاکی بیورو کریٹس اوران کے معاونین باہم شریک جرم ہوں اورایک دوسرے کی کرپشن پرچشم پوشی کے مرتکب۔ پچھلے دس سال کے دوران چوبیس ارب ڈالرکا جو قرضہ لیا گیا وہ ریکارڈ پر ہے‘ قومی آمدنی خواہ ٹیکسوں کی وصولی کی شکل میں ہے یا ترسیلات زر اور برآمدات کی صورت میں‘ وہ بھی کسی سے مخفی نہیں‘ کتنی رقم قرضوں اور سود کی ادائیگی کی مد میں خرچ ہوئی اور کتنی رقم سے قومی ترقیاتی منصوبے مکمل ہوئے اربوں ڈالر کی اس رقم سے کتنے ہسپتال اور تعلیمی ادارے بنے‘ کتنی طویل سڑکیں تعمیر ہوئیں صاف پانی کی سکیمیں مکمل ہوئیں‘ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی ہوئی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوئے اس کا کہیں نہ کہیں اندراج ہو گا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال صاف گو آدمی ہیں وہ تو لگی لپٹی رکھے بغیر کہتے ہیں کہ ان کے صوبے کے ترقیاتی فنڈز کا ستر فیصد حصہ ارکان اسمبلی اور بیورو کریٹس کی جیب میں چلا جاتا ہے جبکہ نیب نے ابھی تک جتنے لوگ پکڑے اور جتنی انکوائریاں مکمل کیں اربوں روپے کے گھپلے ملے۔ یہ تماشہ بھی ہوا کہ عمارت ابھی زیر تعمیر ہے مگر صاف پانی کمپنی نے کرائے کی مد میں سابق وزیر اعلیٰ کے داماد کو تیرہ کروڑ روپے کی ادائیگی کر دی اور کاغذات میں زیر تعمیر عمارت کو اپنا دفتر دکھا دیا۔ یہ بھی حسن اتفاق ہے کہ ملک کے کسی حصے میں جب کوئی بڑا منصوبہ مثلاً موٹر وے مکمل ہوتا ہے‘ بنکوں‘ سیمنٹ کے کارخانوں اور دیگر سرکاری اداروں کی پرائیویٹائزیشن ہوتی ہے اسی دور میں حکمران خاندان کے بیرون واندرون ملک اثاثوں اوربنک اکائونٹس میں اضافہ ہو جاتا ہے اور جائیدادیں کھمبیوںکی طرح اگنے لگتی ہیں۔ عمران خان اگر مجوزہ کمشن کے ذریعے صرف قرضوں کا آڈٹ کرانے میں کامیاب رہے تو جس طرح نیب کا ہر کیس قوم کو حیران کر رہا ہے کمشن کی رپورٹ بھی ششدر کردے گی کہ جن سیاستدانوں کو عوام نے اعتماد کے قابل سمجھا وہ ملک سے کیا کھلواڑ کرتے رہے پی آئی اے کا خسارہ بڑھتا گیا اور وزیر محترم کی ایئر لائن دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتی رہی۔ سٹیل ملز قومی خزانے پربوجھ بن گئی مگر حکمران خاندان کی ملیں سونا اگلتی رہیں اورسندھ میں صحت‘ صفائی اور خوراک کی ناکافی سہولتوں کی وجہ سے ایڈز کا موذی مرض پھیل گیا مگر کسی کو پتہ نہ چل سکا کہ پچھلے دس سال میں طبی سہولتوں کی مد میں مختص اربوں روپے کہاں خرچ ہو گئے ؟ ایان علی و بلاول بھٹو کے اخراجات ایک ہی اکائونٹ سے ہوتے رہے۔ آخر ان دونوں کا باہمی تعلق اور رشتہ کیا ہے؟ وزیر اعظم کمشن کی تشکیل کے بعد حسب عادت دوسرے کاموں میں نہ الجھیں بلکہ کمشن کو زیادہ سے زیادہ دو ماہ میں جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیں تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو اور قوم کو پتہ چلے کہ رہنمائوں کے روپ میں راہزن سادہ لوح عوام کے مستقبل سے کیسے کھیلتے رہے۔ آخر میں نیب راولپنڈی کے سابق سینئر تفتیشی افسرکرنل(ر) امجد زمان خان کا ایک خط بلا تبصرہ ملاحظہ فرمائیں لکھتے ہیں میری وزیر اعظم اور سپیکر صاحبان سے درخواست ہے کہ براہ کرم دوران ریمانڈ ملزم کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی روایت ختم کریں جو تفتیشی کے ساتھ ظلم ہے کیونکہ اسکی تفتیش کی کامیابی تسلسل چاہتی ہے۔وہ ملزم کو جگہ جگہ ساتھ لے جا کر اس سے چھپی دولت کی نشاندہی کرواتا ہے۔ اس سے جرم کے ثبوت اکھٹے کرتا ہے۔ آدھی رات کو بھی ذہن میں کوئی سوال آئے تو ملزم سے پوچھ گچھ کر سکتا ہے۔ دوران ریمانڈ تفتیشی سے ملزم کو آزادی دینے کا مطلب ہے وہ سیدھا باہر آکر ثبوت مٹائے۔اسے تفتیشی لائن پتہ چل چکی ہوتی ہے۔وہ آسانی سے اپنے بیانات اور گواہوں کو بدل سکتا ہے۔ تفتیش کرنے والا اپنی ضمنی کیا خاک لکھے گا اگر اس کی تفتیش کے دوران پوچھے گئے سوالوں کا جواب اسمبلی کے فلور سے ملنا شروع ہو جائے تفتیشی دوران تفتیش لالچ بھی دیتا ہے‘ جھوٹ موٹ کے کردار اور بیانیے ترتیب دے کر ملزم کے دفاع کو توڑتا ہے۔اعصاب کو تھکاتا ہے۔ خدا کے لئے آپ میری یہ آواز سپیکر اسمبلی تک پہنچائیں کہ کسی بھی ملزم کو دوران ریمانڈ تفتیشی سے دور نہ جانے دیں۔ اسکی محنت ضائع نہ ہونے دی جائے۔وہ محدود مدت کے اندر اندر نکتے جوڑ رہا ہوتا ہے۔ثبوت اکھٹے کر رہا ہوتا ہے۔ملزم جب جوڈیشل ھو جائے پھر بے شک پروڈکشن آرڈر جاری کریں اس سے پہلے تفتیشی اور اسکے ادارے پر یہ ظلم نہ کریںکہ تفتیشی ملزم کو اسکے خلاف ثبوت کے لئے تصدیق چاہے اور ملزم کو ساتھ ہی موقع مل جائے کہ وہ باہر جا کر انہیں مٹادے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *