سماجی تحفظ کا بجٹ دگنا، جب کہ 10 لاکھ غربا کو راشن کارڈ اور غریب طلبا کو ٹیوشن فیس اور وظیفہ دینے کا فیصلہ

اسلام آباد (نیوز رپورٹ) معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر  نے کہاہے کہ کسی بھی ملک میں سماجی تحفظ کی پالیسی ضرور ہوتی ہے، یہ بھکاری بنانا نہیں ہے،ہم غریب مستحق افراد کو ان کے پاؤں پر کھڑا کرنے جارہے ہیں،6 ماہ سے فوکس اس بات پر ہے کہ سسٹم بہتر ہو، جہاں غربت میں کمی آئی ان ملکوں میں بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کیا گیا، پاکستان میں بھی اس کی ضرورت ہے، توانا پروگرام کا اچھا تاثر آیا تھا لیکن کرپشن کی شکایات بھی موصول ہوئیں، یہ ابھی آغاز ہے، پوری کوشش ہوگی کہ کسی بھی اسٹیج پر کرپشن نہ ہو۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایسے حالات میں جہاں فنڈ کی کمی ہے وہاں بہت سے اداروں نے رضاکارانہ اپنا بجٹ کم کردیا ہے۔ مستحق افراد کو وھیل چیئر اوربینائی سے محروم افرادکو سفید چھڑی انصاف کارڈ کے تحت مفت دی جائے گی جبکہ سماعت سے محروم افراد کو مفت ہیئرنگ ایڈ دیے جائیں گے۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بتایاکہ وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ ملازمتوں میں معذور افراد کے لیے2 فیصد کوٹے پر سختی سے عمل کیا جائے۔ غریب طلبا کو ٹیوشن فیس، ہاسٹل خرچہ اور وظیفہ دیا جائے گا۔ یتیم خانوں کی حالت بہتر کی جائے گی، حکومت 10 لاکھ غربا کے لیے راشن کارڈ لارہی ہے، تمام منصوبوں کا تیزی سے کام ہورہا ہے۔

One thought on “سماجی تحفظ کا بجٹ دگنا، جب کہ 10 لاکھ غربا کو راشن کارڈ اور غریب طلبا کو ٹیوشن فیس اور وظیفہ دینے کا فیصلہ

  • June 15, 2019 at 1:54 pm
    Permalink

    In the socioeconomic system, which is the Islamic Economics all such schemes which are introduced in Pakistan for the poor class are just an encouragement to develop a beggar class in the state. Benazir Income Support Program or Salani Food Program is just to create a tendency to be lethargic and not to involve in any economic activities. Instead of which government should introduce the program or regular income program linked to economic activity. A person who gets the income must contribute some responsibility and then one can find how many are justified needy person in the country. Free income support is the wastage and unproductive of the hard earn money of the taxpayer which majority of the taxpayer is contributing towards their Zakat and Sadqat contribution.

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *