یہ جسٹس قاضی فائز عیسی ہیں۔ پاکستان کی شرمناک و تاریک عدالتی تاریخ میں معدودے چند جگمگاتے ستاروں میں سے ایک ہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے دو رکنی بینچ نے، جو جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل تھا، رواں سال فروری میں فیض آباد دھرنا کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا تھا

کئی اہم نکات کے علاوہ فیصلے کے آخر میں دی گئی تجاویز میں عدالت نے آرمی چیف، اور بحری و فضائی افواج کے سربراہان کو وزارتِ دفاع کے توسط سے حکم دیا ہے کہ وہ فوج کے ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کریں جنھوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی سیاسی جماعت یا گروہ کی حمایت کی

فیصلے میں آرمی چیف کو ہدایت کی گئی تھی کہ افواج پاکستان اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو اپنی آئینی حدود میں رکھا جائے

پاکستان کی اعلی ترین عدالت کے فیصلے کو جوتے کی نوک پہ رکھتے ہوئے یہ کاروائی کی گئی ہے۔ کہ اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فیض آباد دھرنے کے شرکاء میں میڈیا کے سامنے ہزار ہزار روپے بانٹنے والے میجر جنرل فیض حمید چشتی کو ترقی دے کر لیفٹیننٹ جنرل بنا دیا گیا ہے

اور فیض آباد دھرنا کیس میں اس غیر آئینی عمل کے خلاف اپنے فیصلے کے ذریعے بولنے والے معزز اور بہادر جج جسٹس قاضی فائز عیسی صاحب کی برطرفی کیلئے پنجاب بار کونسل میں بھی قرارداد پاس کی گئی ہے اور حکمراں جماعت تحریک انصاف نے بھی ان کے خلاف درخواست دی تھی ۔ اور اس کے بعد آج وفاقی حکومت کی طرف سے ان کے خلاف سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کر دیا گیا ہے

فیض نے کیا خوب کہا تھا

نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چرا کے چلے جسم و جاں بچا کے چلے
ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظم بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *