محسن داوڑ افغانستان فرار

افغانستان پہنچ کر سوشل میڈیا پر متحرک ۔فوج کے خلاف غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو

پاک فوج پر بزدلانہ حملے کے بعد محسن داوڑ افغانستان فرار ہوگیا، پشتون تحفظ موومنٹ کا رہنما افغانستان پہنچ کر سوشل میڈیا پر متحرک ہوئے جس کے بعد آج محسن داوڑ نے غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دے دیا جس میں انہوں نے اپنے مطالبے سے آگاہ کر دیا ہے۔ محسن داوڑ نے غیر ملکی میڈیا کو دئے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاک فوج وزیرستان سے چلی جائے۔
خیال رہے کہ پاک فوج نے کئی سالوں کی ان تھک محنت، دہشتگردوں کے خلاف آپریشن اور ان آپریشنز میں جوانوں کی قربانیاں دے کر وزیرستان میں امن بحال کیا تھا لیکن حال ہی میں محسن داوڑ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر وزیرستان میں پاک فوج کی چوکی پر نہ صرف حملہ کیا بلکہ وزیرستان میں امن وامان کی صورتحال بھی خراب کرنے کی کوشش کی جس کی سختی سے مذمت کی گئی۔
محسن داوڑ کے حالیہ انٹرویو میں کیے گئے مطالبے پر سیاسی اور دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ محسن داوڑ کے اس بیان سے لگتا ہے کہ وہ وزیرستان میں بحالی امن سے خوش نہیں ہیں اور دوبارہ پاک فوج کو وزیرستان سے بھیجنا چاہتے ہیں اگر پاک فوج وزیرستان سے چلی گئی تو عین ممکن ہے کہ وزیرستان دوبارہ سے دہشتگردوں کی آماجگاہ بن جائے جو کہ پاکستان کے لیے ناقابل قبول ہے۔

یادر رہے کہ پاک فوج کی چوکی پر ساتھیوں سمیت حملہ کرنے والے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ مفرور ہیں ، ان کے حوالے سے گذشتہ روز موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق وہ اس وقت افغانستان میں موجود ہیں۔ جس کے بعد اب رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے پاکستان مخالف غیر ملکی میڈیا گروپس کو انٹرویو دے کر اور سوشل میڈیا کے ذریعے ریاستی اداروں کیخلاف زہر اگلنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
یہ بھی بتایاگیا کہ شمالی وزیرستان میں انٹرنیٹ اور مواصلات کے دیگر ذرائع اس وقت کام نہیں کر رہے، ایسے میں سوشل میڈیا استعمال کرنا یا غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دینا ممکن نہیں ہے۔ محسن داوڑ کی جانب سے سوشل میڈیا پر متحرک ہو جانا اور غیر ملکی میڈیا کو انٹرویوز دینا ثابت کرتا ہے کہ پی ٹی ایم رہنما کے افغانستان فرار ہو جانے کی اطلاعات درست ہیں۔ تاہم اس حوالے سے تاحال کوئی تصدیقی بیان سامنے نہیں آ سکا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *