شرح سود 12.25فیصدتک بڑھادی گئی

کراچی (اسٹاف رپوٹر) مالیاتی شعبہ محاصل کی وصولی میں کمی، بجٹ سے بڑھ کر سودی ادائیگیوں اور امن و امان سے متعلق اخراجات کی بنا پر جولائی تا مارچ مالی سال 19ء کے دوران مجموعی مالیاتی خسارہ گذشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں خاصا بلند رہنے کا امکان ہے۔زری پالیسی کے نقطہ نظر سے مالیاتی خسارے کا بڑھتا ہوا حصہ اسٹیٹ بینک سے قرض لے  کر پورا کیا گیا ہے: مطلق لحاظ سے یکم جولائی سے 10مئی مالی سال 19ء کے دوران حکومت نے اسٹیٹ بینک سے 4.8 ٹریلین روپے قرض لیے جو پچھلے برس کے اسی عرصے میں لی گئی رقم کا 2.4 گنا ہے۔ اس قرض  کا بڑا حصہ (3.7 ٹریلین روپے) کمرشل بینکوں سے ہٹاؤ کی عکاسی کرتا ہے جو موجودہ شرحوں پر حکومت کو قرض دینے سے ہچکچا رہے تھے۔اس کے نتیجے میں خسارے کی بڑھی ہوئی تسکیک ( monetization) نے مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔

:زری شعبہ اور مہنگائی کا منظر نامہ : زری پالیسی کی حالیہ سختی کے باوجود یکم جولائی تا 10مئی مالی سال 2019ء کے دوران نجی شعبے کے قرض میں 9.4 فیصد اضافہ ہوا۔ قرض میں بیشتر اضافہ خام مال کی اضافی قیمتوں کے باعث جاری سرمائے کے لیے تھا۔ زر ِوسیع (ایم ٹو) کی رسد پر بلند حکومتی قرض اور نجی شعبے کے قرضے کا توسیعی اثر  بینکاری شعبے کے خالص بیرونی اثاثوں میں کمی کی وجہ سے جزواً زائل ہوگیا۔ مجموعی طور پر یکم جولائی تا 10مئی مالی سال 2019ء کے دوران زرِ وسیع کی رسد 4.7 فیصد بڑھ گئی۔

صارف اشاریہ قیمت (CPI) سال بسال بنیاد پر مارچ 2019ء میں 9.4 فیصد اور اپریل 2019ء میں 8.8 فیصد بڑھا۔اوسط عمومی صارف اشاریہ قیمت مہنگائی جولائی تا اپریل مالی سال 19ء میں 7.0 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ پچھلے سال کی اسی مدت میں 3.8 فیصد تھی۔ مزید برآں، ایندھن کی ملکی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور غذائی اشیا کے بڑھتے ہوئے نرخوں اور خام مال کی اضافی لاگت کی بنا پر گذشتہ تین ماہ میں سالانہ بنیاد پر (annualized)ماہ بہ ماہ عمومی مہنگائی خاصی بڑھی ہے۔ اس طرح مہنگائی کا دباؤ کچھ عرصے تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ آئی بی اے ایس بی پی کے تازہ ترین اعتماد صارف سروے سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بیشتر گھرانے اگلے چھ ماہ کے دوران بلند مہنگائی کی توقع کرتے ہیں۔ مذکورہ بالا حالات اور اہم شعبوں کے منظر نامے کے پیش نظر اوسط عمومی صارف اشاریہ قیمت  مہنگائی مالی سال 19ء میں متوقع طور پر 6.5-7.5فیصد کی حدود میں رہے گی اور مالی سال 20ء  میں اس سے بھی خاصی بلند رہنے کی توقع ہے۔ مالی سال 20ء میں مہنگائی کا یہ منظر نامہ آئندہ بجٹ میں ٹیکسوں میں ردّوبدل، بجلی اور گیس کے نرخوں میں ممکنہ تبدیلیوں اور تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں تغیر سے ابھرنے والے کئی خطرات سے مشروط ہے جو مہنگائی میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ یہ منظرنامہ مستقبل بین(forward-looking) بنیاد پر حقیقی شرح سود میں کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔

پالیسی ریٹ کا فیصلہ: مذکورہ بالا حالات اور ارتقا پذیر معاشی صورتِ حال کے پیش نظر زری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ مندرجہ ذیل اسباب سے ابھرنے والے مہنگائی کے مضمر دباؤ سے نمٹنے کے لیے مزید پالیسی اقدامات کی ضرورت ہے(i)عمومی اور قوزی (core)  مہنگائی کے حالیہ ماہ بہ ماہ بلند اعدادوشمار؛ (ii) شرح مبادلہ میں حالیہ کمی؛ (iii) مالیاتی خسارے کی بلند سطح اور اس کی بڑھی ہوئی تسکیک؛ اور (iv) یوٹیلٹی نرخوں میں ممکنہ ردّوبدل۔ اس تناظر میں زری پالیسی کمیٹی نے 21 مئی 2019ء سے پالیسی ریٹ کو 150بی پی ایس بڑھا کر12.25فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *