کراچی سرکلر ریلوے

کراچی : وسیم عباسی

سپریم کورٹ کے نوٹس کے بعد آج کمشنر کراچی افتخار شالوانی، ڈی ایس ریلوے مظہر علی شاہ اور ڈی آئی جی ریلوے اظہر علی کے ساتھ کراشی سرکلر ریلوے کے ٹیک کو دیکھنے کا موقع ملا. کراچی شہر کو ایک الگ اینگل سے دیکھنے کا موقع ملا. یہ ریلوے ٹریک 19 سال کے بعد کھلا ہے, جس میں تقریباً 28 پھاٹک آتے ہیں . یقیناً یہ ایک بڑا مشکل کام تھا, اس میں کئی مقامات پر نئے ریلوے ٹریک بھی ڈالے گئے ہیں. سفر کے دوران اس ٹریک کے آس پاس کے کچھے پکے مکانات بھی دیکھے جن میں برسوں سے لوگ وہاں رہ رہے ہونگے. جن میں کچھ تجاوزات کی زد میں آگئے تھے. اس ویڈیو میں ہم سٹی اسٹیشن سے کے پی ٹی برڈج کے نیچے سے گزر کر کے پی ٹی اسٹیشن اور پھر آگے وزیر مینشن اسٹیشن سے گزرتے ہوئے لیاری ندی کو کراس کرتے ہوئے آگے کی طرف گئے. جن بستیوں کو راستے میں دیکھا تو ذہن میں سوالوں کے انبار لگ گئے کہ جب ٹرین چلنا شروع ہوگی تو حادثات کا خطرہ رہے گا. گندگی کے ڈھیر ریلوے ٹریک پر دیکھ کر پاکستان ریلوے اور بلدیاتی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے؟ 19 سال پہلے جب یہ سرکلر ریلوے چلتی ہونگی تو اس وقت ٹریفک کا اتنا برا حال نہیں ہوگا جو اب ہے. اب جب یہ 28 ہھاٹک بند ہونگے تو ٹریفک بد ترین جام ہوگا. کم از کم ٹرین گزرنے سے 5 منٹ پہلے تو بند کرینگے. ان 5 منٹوں میں گاڑیوں کی لائن لگے گی. ایک اور سوال ذہن میں آیا کہ آخر تجاوزات گرا کر جن میں لوگوں کے روزگار شامل ہیں. حکومت سندھ کی جانب سے کوئی پلان سامنے نہیں آیا کہ اب آگے کیا کرنا ہے. سپریم کورٹ اور وفاقی حکومت تو توڑ پھوڑ کر کے اپنی ذمہ داری پوری کر دے گی. مگر اس کے بعد کیا ہوگا. کراچی سکلر ریلوے کب اور کیسے چلے گی؟  امید ہے کراچی کے بڑھتے ہوئے مسائل جن میں بڑا مسئلہ ٹرانسپورٹ اور ٹریفک کی بد ترین حالت ہے جلد از جلد حل ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *