پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کیلئے نیب ایکشن ناگزیر

تحریر: ناصر محمود

بحری جہازوں کی زائد قیمت پر خریداری، غیر قانونی بھرتیوں اور من پسند افراد کو پروموٹ کرنے جیسے اقدامات غالباً وزیر و مشیر میری ٹائم افیئرز کی رضامندی سے ہو رہے ہیں۔

جنوری میں جنوبی کورین ساختہ ٹینکر (بحری جہاز) ایم ٹی بولان اور ایم ٹی خیرپور کی خریداری کیلئے مارکیٹ پرائس سے زیادہ رقم 43 لاکھ ڈالر (جو پاکستان کرنسی میں 60 کروڑ روپے بنتے ہیں) ادا کرنے والے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے چیئرمین محمد رضوان کو اسلام آباد میں بیٹھے حکام نے ایک اور منافع بخش عہدے سے نواز دیا ہے۔ اب وہ میری ٹائم افیئرز کا اضافی چارج بھی رکھتے ہیں۔

ادھر 8 اپریل 2019 کو جاری کئے گئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نوٹیفکیشن میں الٹ کہانی بیان کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی حکومت نے 22 گریڈ کے افسر اور موجودہ سیکریٹری ٹائم افیئر ڈویژن رضوان احمد کو چیئرمین پی این ایس سی کی اضافی ذمہ داری تفویض کی اور وہ 3 ماہ یا نئی تقرری تک اپنے فرائض انجام دیں گے۔ حالانکہ انہیں پی این ایس سی کا چیئرمین ایک سال پہلے لگایا گیا تھا۔

یہ مفادات کا ٹکراؤ ہے اور ان قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے جنہیں اب تک قومی احتساب بیورو (نیب) کے کرتا دھرتاؤں کے علاوہ قانون نافذ کرنے والا ادارہ ایف آئی اے بھی نظر انداز کرتا آیا ہے۔ لوگ منتظر ہیں کہ ان کیخلاف تحقیقات کون کرے گا یا پھر ان کی خطاؤں کی شکایت کس پلیٹ فارم پر کی جائے۔ یہاں یہ بتاتا چلوں کہ حال ہی میں ملازمین کیس میں سندھ ہائی کورٹ نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپویشن کے چیئرمین رضوان احمد کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر رکھا ہے، اس کے بعد بھی وزارت میری ٹائم میں غیر قانونی ایچ آر سرگرمیاں جاری ہیں۔

16 فروری 2019 کو ایک اخبار میں پورٹ قاسم اتھارٹی (پی کیو اے) کی چیئرمین شپ کی اسامی کیلئے دیا گیا اشتہار اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ وزارت اور اس کے منسلک اداروں کو قانون کی پاسداری کا کوئی احترام نہیں ہے۔ مذکورہ اشتہار کے مطابق اسامی کیلئے امیدوار کی عمر کی جو حد رکھی گئی وہ 62 برس ہے، حالانکہ 60 برس کی عمر میں سرکاری ملازم اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جاتے ہیں۔ یہی نہیں یہ سویلین اسٹیبلشمنٹ کوڈ (ESTACODE) کیخلاف ہے، جبکہ سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کے بھی منافی ہے۔

باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پورٹ قاسم اتھارٹی کے چیئرمین کی خالی اسامی کیلئے 62 برس کی زیادہ سے زیادہ حد عمر کا اشتہار پی این ایس سی کے مقرر کردہ ڈائریکٹرز یا منظور نظر افراد کو فیور دینے کیلئے دیا گیا، جو سرکاری ملازمت کیلئے قومی سطح پر رائج عمر کے قوانین کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ عہدے کیلئے وزارت کے اندر ہی کچھ حلقے پورٹ قاسم اتارٹی کے FOTCO ٹرمینل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر ریٹائر ہونے والے حسن سبتگین کی طرفداری کر رہے تھے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کا 2011 میں Cr.O.P.89 پر دیا گیا فیصلہ حکومتی اداروں، کارپوریشنز اور خود مختار محکموں میں ایچ آر سرگرمیوں کیلئے واضح اصول بیان کرتا ہے۔ ان اصولوں کے میڈیا پر نشر و شائع ہونے باوجود وزارت میری ٹائم افیئرز نے انہیں مسلسل نظر انداز کیا اور اب بھی کر رہا ہے اور بغیر کوئی وجہ بتائے غیر قانونی بھرتیاں اور ایچ آر سرگرمیاں جاری ہیں۔

اسد رفیع چندنہ ایک ہی وقت میں چیئرمین پی کیو اے، ڈی جی پورٹس اینڈ شپنگ اور محکمہ فشریز کے سربراہ کی ذمہ داریاں کئی ماہ سے انجام دے رہے ہیں مگر وزارت میری ٹائم افیئرز نے ان دفاتر کے اعلیٰ انتظامی معاملات میں تبدیلی لانے کیلئے سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اس حوالے سے وزارت اور وزیر میری ٹائم افیئرز علی زیدی کیخلاف ایک پٹیشن پہلے ہی سندھ ہائی کورٹ میں دائر کی جا چکی ہے۔

حد عمر کے معاملے پر سندھ ہائی کورٹ میں قانونی جنگ ہارنے کے بعد وزارت میری ٹائم افیئرز سے منسلک مختلف اداروں نے تو 60 برس سے اوپر کے افراد کی بھرتیاں روک دیں مگر پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن میں ابھی تک 3ایگزیکٹو ڈائریکٹرز موجود ہیں، جن کی عمریں 60 برس سے زائد ہیں۔ غالباً اس میں وزارت کے وزیر اور مشیر کی رضامندی شامل ہے۔

سب سے دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے چیئرمین رضوان احمد ماضی میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں بھی اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں اور وہ سویلین اسٹیبلشمنٹ کوڈ کے تحت ریٹائرمنٹ اور بھرتیوں کے قوائد و ضوابط سے بخوبی واقف ہیں۔ حتیٰ کہ تین ڈائریکٹر جن میں کپیٹن محمد شکیل (دائریکٹر کمرشل)، طارق مجید (ڈائریکٹر شپ منیجمنٹ) اور بریگیڈیئر (ر) راشد صدیقی شامل ہیں، پی این ایس سی میں کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور عہدوں کیلئے کوئی اشتہار یا ضروری کارروائی کے بغیر ہی ان کے کنٹریکٹس میں توسیع بھی دے دی گئی۔

24 فروری 2019 کو ایسا ہی ایک اشتہار اخبارات کی زینت بنا، جس میں کئی اسامیوں کیلئے درخواستیں طلب کی گئیں لیکن جو معیار رکھا گیا تھا وہ میرٹ کے بجائے اپنے ہی امیدواروں اور درج بالا غیر قانونی دائریکٹرز کے منظور نظر افراد کو نوازنے کیلئے تھا۔

واضح رہے کہ 2016 میں ڈائریکٹروں کی میرٹ پر بھرتی کے بجائے پی این ایس سی نے کیپٹن شکیل (جنرل منیجر کمرشل) کی بطور ڈائریکٹر کمرشل اور جرار احمد کاضمی (جنرل منیجر فنانس) کی بطور ڈائریکٹر فنانس تقرری کیلئے خصوصی معیار طے کیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *