پاکستان : معاشی ایمرجنسی

غربت ایک کہانی ، ایک عجیب فلسفہ ، ایک آبیتی

تحریر : ڈاکڑ عبدالجبار خان

کوئی تہوار آتا ہے تو غریب کی جیسے جیسے روز عید ہو ، یہ صورتحال آج کل پاکستان غریب پرور شہر کی ہے ۔ یہ غریب پل جایا کرتے تھے مگر یہاں ایک ایسا جرثومہ آگیا ہے جس نے مالدار لوگوں کو بھی رونے پر مجبور کردیا ہے ، تمام کاروبا ربند اور لوگ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے گھروں میں بند ہو گئے۔ جیسے کسی عدالت نے سزا دے ڈالی ہو۔

منصف اعلی برطانیہ کا چیف جسٹس نہیں، وہ عادل عالی ہے، جبار ہے۔

غربت پہ تحقیق و تحریر کرتے کافی طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ سروے, ریسرچ ڈیزائن، ماڈل، ڈیٹا اور اس کا استعمال کرکے کتابیں اور مضامین لکھتا رہا اور اپنی روزی روٹی کمانے کے کام کے ساتھ ساتھ اس تمام تر مشق میں ہر طرح کے افراد سے واسطہ رہا۔
اس تعلق سے اسلام اور غربت، اسلام اور کارل مارکس کا نظریہ، سوشلزم اور پھر موجودہ سرمایہ دارانہ نظام وجود میں آیا، جو اب اپنے پنجے گاڑ چکا ہے۔  یہ سرمایہ دارانہ عفریت جو کیپٹلزم کے نام سے جانا جاتا ہے اس کو سمجھنے میں کافی محنت لگی۔ یہ اب اپنی بھرپور طاقت کے ساتھ G8, G20 کی شکل میں پوری دنیا پر پنجے گاڑ چکا ہے. عدم مساوات سرمائے کا بھرپور مگر بے جا استعمال ،استعماریت اور جاگیرداریت کی مختلف اشکال ہی تو ہیں یہ نظام غریب کو غریب بلکہ فاقہ کش کر رہا ہے۔ آج کے سرمایہ دارانہ نظام بگڑی ہوئی شکل جس کی ایک مثال یہ کہ جہاں کل ہزاروں لاکھوں بیمار افراد نے اپنے کروڑوں روپے کی کرنسی سڑکوں اور گلیوں میں اڑا دی کہ اب اس کرنسی میں ان کے درد کا مداوا نہیں رہا۔

سرمایہ دارانہ نظام کی کی یہ بدترین مثال ہے جو موجودہ ایکیسویں صدی میں نظر آرہی ہے ۔ امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور فرانس مغرب کے خوشحال ملکوں میں شامل ہیں مگر اس کرونا نے انہیں کسی بھی طور پر اپنے سرمائے کے تحفظ کے لیے مہلت بھی نہیں دی کہ وہ اس سرمائے کا کوئی بہتر استعمال تجویز کر سکیں۔ البتہ جرمنی نے اپنے عوام کے لیے وہاں مقیم غیر ملکی طلبہ کے لئےبہتر سہولتں فراہم کرنے کا اعلان ضرور کیا ہے۔
اس تمام صورتحال میں پاکستا ن کا حال عجیب نہیں ، لاہور میں ایک بڑی انڈسٹری کے سرمایہ دار نے پہلے ہی تمام ملازمین کو کہا ہے کہ مارچ کے مہینے کی تنخواہ دے رہا ہوں مگر اب دینے کے لیے کچھ نہیں آدھی روٹی کھا کر گزارہ کرو جب موجودہ لاک ڈاؤن ختم ہوگا تو تودیکھا جائے گا۔

یعنی ہر ایک کو نصاب کے مطابق زکوٰة ادا کرنا ہوگی۔ ایسا بیت المال ہو جس سے غریبوں، مسکینوں، یتیموں، بے روزگاروں اور دیگر ایسے ہی افراد کی مدد کی جاسکے۔ یہ اسلامی نظام اس لئے ضروری ہے کہ موجود تمام نظام امیروں کو امیر اور غریبوں کو مزید غریب کررہے ہیں۔ موجود صورتحال کو بہتر کرنے یا سدھارنے کا واحد حل صرف اور صرف اسلامی معاشی نظام کے نفاذ میں مضمر ہے۔ ایسا نہیں کیا گیا تو دنیا کی تباہی و بربادی نوشتہ دیوار ثابت ہوگی۔

تمام اقتصادی نظریات ناکام ہو چکے ہیں۔کیو نکہ یہ نظام عدم مساوات اور آمدن کے اسباب کو محدود کرنے سے متعلق ہی رہے ہیں اور یہاں اگر ایک یونیورسل معاشی نظام یقینی طور پر ہوسکتا ہے تو وہ صرف اور صرف ایسا معاشی اور سماجی تحفظ مساوات، دولت کے پھیلاؤ یعنی سرکولیشن آف منی اور یہ صرف ایک فری اور جدید نظام میں موجود ہیں ۔ یہ نظام غریب کا حق اس کے مانگنے سے پہلے ادا کرنے والا۔ جی ہاں! کورونا کی اثرات سے بچاؤ کے لیے منصفانہ نظام معیشت، وگرنہ تیری بربادی کے مشورے ہیں ۔لوگوں کو اس وقت بھوک اور افلاس سے نکالنے کے لئے شدید ضرورت۔اس صورتحال کا فوری حل ہونا چاہئے

 

 

Leave a Reply