وفاقی اردو یونیورسٹی جی آر ایم سی کا اجلاس غیر قانونی قرار

کراچی ( اختر شیخ) وفاقی اردو یونیورسٹی جی آر ایم سی کا اجلاس غیر قانونی قرار دے دیا ، رئیس کلیہ فنون عبدالحق کیمپس ڈاکٹر محمد ضیاء الدین، ڈاکٹر ساجد جہانگیر اور پروفیسر ڈاکٹر عارف زبیر نے توہین عدالت کے ممکنہ فیصلے کے سبب اجلاس میں شرکت سے معذرت کر لی ۔

قائم مقام وائس چانسلر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے اختیارات سے تجاوز کی شکایات کے سبب طلب کر رکھا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق وفاقی اردو یونیورسٹی کی جی آر ایم سی کا اجلاس متنازعہ شکل اختیار کر گیا ، جب یونیورسٹی کے سینیر ڈین اور رئیس کلیہ فنون عبدالحق کیمپس ڈاکٹر محمد ضیاء الدین ، سینئر پروفیسر ڈاکٹر عارف زبیر اور ڈاکٹر ساجد جہانگیر نے عدالتی احکامات کے سبب جی آر ایم سی کے اجلاس میں شرکت سے معذرت کر لی ۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے کیس نمبر WP NO. 2736/2020 میں 29 ستمبر 2020 کو ایک عدالتی فیصلے میں قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق کو صرف روزمرہ کے امور انجام دینے تک محدود کیا گیا تھا۔ تینوں سینئر اساتذہ نے اپنے تحریری موقف میں قائم مقام رجسٹرا ر کو اس حقیقت سے آگاہ کیا کہ جی آر ایم سی ایک اہم دستوری ادارہ ہے جس کا اجلاس صرف شیخ الجامعہ کی زیر صدارت منعقد ہو سکتا ہے ۔ لہذا موجودہ قائم مقام وائس چانسلر کو عدالتی حکم کے مطابق قانونی پیچیدگیوں اور ممکنہ توہین عدالت کی کارروائی سے بچنے کی خاطر اس نوعیت کے اجلاس کی صدارت نہیں کرنی چاہیئے ۔

قائم مقام انتظامیہ نے سینئر اساتذہ اور ڈین کی جانب سے اس تحریر کو نظر انداز کرتے ہوئے جی آر ایم سی کا اجلاس طلب کیا ۔ اس اجلاس میں قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق، قائم مقام رجسٹرار ڈاکٹر محمد صارم، انچارج کلیہ فارمیسی ڈاکٹر مہہ جبین، انچارج کلیہ معارف اسلامیہ ڈاکٹر رابعہ مدنی، پروفیسر ڈاکٹر زاہد، پروفیسر ڈاکٹر مسعود مشکور اور ڈاکٹر غلام رسول لکھن نے شرکت کی ۔

خلاف ضابطہ اجلاس کے سیکریٹری کے فرائض قائم مقام رجسٹرار ڈاکٹر محمد صارم نے خود ادا کئے۔ یونیورسٹی قوانین کے مطابق جی آر ایم سی کے اجلاس میں سیکریٹری کے فرائض ڈپٹی رجسٹرار اکیڈمک انجام دیتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *