کے ڈی اے کے 313 پلاٹوں کی غائب فائلوں کو ٹھکانے لگانے کا ٹاسک ،سابق ڈائریکٹر لینڈ کو ڈی جی لگانے کا پلان،اربوں روپئے کی اراضی لینڈ گریبرز کے حوالے

کراچی(خصوصی رپورٹ؛رفیق آزاد) کے ڈی اے میں کرپٹ افسران ایک بار پھر منظم اور فعال ہونا شروع ہوگئے،موجودہ ڈائریکٹر جنرل ڈی ایم جی گروپ گریڈ 20 کےآصف اکرام کا غلط کام سے انکار انکے تبادلے کا سبب بن گیا، آئندہ چند گھنٹے نہایت اہم قرار،نئے ڈی جی کے لئے پیپلز پارٹی کے کرپٹ عناصر سر گرم ہیں،صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ کو سابق ڈائریکٹر لینڈ آصف میمن سے بڑا لگاو ہے اکثر تولیہ انہی سے منگواتے پائے گئے ہیں۔

سندھ حکومت کی جانب سے انھیں اور انکی اہلیہ کو اگلے عہدوں پر اچانک ترقیاں دینا کسی کو ہضم نہیں ہورہا جبکہ کے ڈی اے کے افسران چہ مگوئیوں میں مصروف ہیں کہ نہ جانے کون سا بڑا کام ہے جو موجودہ ڈی جی کے بس میں نہیں ہے،باخبر زرائع کا کہنا ہے کہ آصف میمن کوجو کہ نیب اور اینٹی کرپشن کی کئی انکوائریوں کا حصہ ہیں انہیں گریڈ بیس میں ترقی دیکر ڈائریکٹرجنرل کے ڈی اے لگواناکسی کے تو پلان کا حصہ ہے۔

نیب سندھ کے افسران،اینٹی کرپشن کے ڈائریکٹرز بھی 313 فائلوں کا معمہ حل نہ کرسکے،پیچھے سے زیادہ دباو پڑنے پر ہاتھ اٹھا لئے گئے اور معالہ سرد خانے کی نظرہوگیا اور گیا،سب سے زیادہ فائیلیں مہران ٹاون اوورسیز پلاٹوں کی ہیں جنھیں کے ڈی اے افسران لینڈ مافیا کے تعاون سے تبدیل کرنے میں مگن اور مصروف ہیں گزشتہ دو دنوں میں اس کام میں بڑی تیزی آئی ہے۔ ۔ ۔ ۔ بڑی مہارت اور باریکی سےمبینہ جعلسازی کی جارہی ہے، جو عناصر اس دھندے میں ملوث ہیں،اس میں سرکاری افسر،اسسٹنٹ ڈائریکٹر عرفان عرف ڈی کے،عاطف لمبا،زبیر ہوتی عرف بلبل پی ایس ٹو ڈی ایل ایم،قاسم لمباسمیت70 سے زائد کلیریکل اسٹاف جبکہ عطاء عباس کا بھائی ارشاد عباس، ریحان ٹوپی،شفیع کانا،جو کہ ایم کیو ایم کی کراچی تنظیمی کمیٹی کے سربراہ حماد صدیقی کا دست راست بھی رہاہے۔

سرمد صدیقی کا بھائی دنوو ،منظور مگسی،چوہدری قیصر عرف قیصر گجر،عرف بابر ،آصف مروت کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں کے کارندے جس میں مبینہ طور پر پیپلز پارٹی،جسقم،عوامی نیشنل پارٹی،فنکشنل لیگ کی مقامی قیادت سمیت مہران ٹاون میں موجود بعض اسٹیٹ ایجنٹ اور بروکرزقابل زکر ہیں مزکورہ تمام افراد بلاوجہ کے ڈی اے کے مختلف فلورز پر نظراکثر نظر آتے ہیں ،سی سی ٹی وی کیمرے گواہی دے سکتے ہیں،مہران ٹاون اسکیم کے اوورسیز بلاک میں تاحال بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے،بجلی ،پانی ،گیس کے کنکشن اور چائنا کٹنگ ایم کیو ایم کے کھاتے میں جاتی ہے،اوورسیز رہائشی پلاٹوں پر فیکٹریاں بنادی گئیں،کاٹی کے ممبران شاید خوف سے علاقے میں جانا نہیں چاہتے۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے متعلقہ ڈائریکٹرزبھی علاقے کی غیر قانونی ترقی سے لاعلم ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جن پلاٹوں پر جعلسازی کی گئی اس میں پلاٹ نمبرایل 193 سیکٹر 6اے،پلاٹ نمبر 435 بلاک وی سیکٹر6اے ،اے435؎اے پلاٹ نمبر 24 سی سیکٹر6ای،پلاٹ نمبرایچ11 سیکٹر 6اے ،پلاٹ نمبر407/1 ایس ٹی 16سیکٹر7اے کورنگی انڈسٹریل ایریا،مہران ٹاون کے سیکٹر 6اے میں تومافیا نے انت مچادی پلاٹ نمبر 437اے،پلاٹ نمبر 436 اے،پلاٹ نمبر336 اے،پلاٹ نمبر410اے،پلاٹ نمبر51سی،پلاٹ نمبر 274 بی،پلاٹ نمبر 397 اے،پلاٹ نمبر 419،438،415 ،412اور 411 کی غائب فائیلیں بھی منظرعام پر آنا شروع ہوگئیں جبکہ اصل مالکان بیرون ملک اس معاملے سے بلکل بے خبر ہیں۔

لینڈ مافیاکے سرپرست جھنڈوں والی گاڑیاں استعمال کرکے معصوم شہریوں کو یقین دلاتے ہیں کہ سارے غلط کام سرکاری افسران ہمارے حکم پر کرتے ہیں کیونکہ ہم سسٹم کا حصہ ہیں،سماجی حلقوں نےنیب،اینٹی کرپشن،اور احتسابی اداروں کی پراسرار خاموشی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان،وزیر برائےاوورسیز پاکستانیز زلفی بخاری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وفاقی سطح پر ٹاسک فورس بناکر سمندر پار پاکستانیوں کے اثاثوں پر ڈکیتی مارنے والوں کو کیفر کردار کریں،،،،،،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *