اسرائیل کو تسلیم کرنے کی ایسی بھی کیا جلدی ہے ؟ حصہ اول

ستمبر 21, 2020

آج کل مسلم ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باقاعدہ ریس لگی ہوئی ہے ۔ اس صورتحال سے امہ حیران ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان بھی ہے ۔ مسلم ممالک خصوصا عرب ریاستوں کی جانب سے اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کرنے کے بعد امہ میں ہیجان پیدا ہونا فطری امر ہے ۔ اس ہیجان کے ساتھ ہی ایک مایوسی کی کیفیت بھی پائی جارہی ہے ۔ لوگوں کے احساسات کچھ اس طرح کے ہیں کہ جیسا کہ امت مسلمہ جنگ ہار گئی ہے ۔ یہ امر ایک حقیقت ہے کہ توقع مایوسی کی ماں ہے ۔ جب کوئی توقع باندھ لی جائے اور وہ پوری نہ ہو تو مایوسی پیدا ہوتی ہے ۔ کچھ یہی صورتحال اس وقت امت مسلمہ کے ساتھ ہے ۔ سب کو توقع تھی کہ مسلم ممالک خصوصا عرب ممالک کے حکمراں کچھ کریں یا نہ کریں مگر یوں امت مسلمہ کی پشت پر خنجر نہیں گھونپیں گے ۔ صرف عرب ممالک کے حکمراں ہی نہیں ، ہم نے اپنے ملک میں بھی ہر طبقے سے امیدیں باندھی ہوئی ہیں اور جب وہ پوری نہیں ہوتیں تو نہ صرف مایوسی بلکہ جھنجھلاہٹ کا شکار ہوجاتے ہیں ۔

تمام ہی باتیں کھلا راز ہیں مگر چونکہ ان کی تصویر اس طرح سے پینٹ کی گئی ہے کہ ہم خوبصورت خوابوں میں کھو جاتے ہیں ۔ سب سے پہلے پاکستان کو دیکھتے ہیں اور پھر دیگر ممالک کو ۔ اس سے ہمیں صورتحال کو سمجھنے میں مدد ملے گی ۔ تھوڑا سا الٹا سفر کرتے ہیں ۔ پاکستان کس نے بنایا ، مسلم لیگ نے ۔ مسلم لیگ کس نے بنائی ، متحدہ بھارت کے سارے نوابوں نے اور یہ نواب کس نے بنائے ۔ انگریز حکمرانوں نے ۔ یہ حقیقت ہے کہ حریت پسندوں کی لاشیں یا تو درختوں پر لٹک رہی تھیں یا پھر وہ ادھر ادھر ہوگئے تھے ۔ بھارت پر قبضہ کرنے کے بعد انگریزوں نے اپنے وفاداروں میں جاگیریں بانٹنے کا کام شروع کیا ۔آپ ایک ایک نواب اور رجواڑوں کے راجاوں کی تاریخ کو اٹھا کر دیکھتے جائیں ، کوئی ایک نواب اور راجا بھی ایسا نہیں ملے گا جس نے انگریز سے وفاداری نہ نبھائی ہو ۔ انگریز سے وفاداری کا مطلب سیدھے سبھاو یہی ہے کہ انہوں نے اپنی قوم اور مملکت سے غداری کی ۔ اس میں سکھ ، ہندو اور مسلم کی کوئی تخصیص نہیں ہے ۔ جہاں پر انگریز نے بالواسطہ طور پر نوابوں کے ذریعے مسلم لیگ قائم کی وہاں پر اس نے براہ راست لارڈ ہیوم کے ذریعے کانگریس قائم کی ۔

مقبوضہ برصغیر پر حکمرانی کے لیے انگریزوں نے ہر ہتھکنڈہ استعمال کیا ۔ انہوں نے یہاں کا نظام تعلیم ہی مکمل طور پر تبدیل کردیا ۔ زبان بدل کر فارسی اور عربی کے بجائے دفاتر کی زبان انگریزی اور عوامی زبان مسلمانو ں کے لیے اردو اور ہندووں کے لیے ہندی کردی ۔ اپنی مرضی کی تاریخ لکھوائی اوریوں دو نسلوں کے بعد عوام کو وہی بات جانتے اور بولتے تھے جو انگریز چاہتے تھے کیوں کہ عربی اور فارسی سے رشتہ ختم ہونے کے بعد علم کے ماخذ سے ان کا براہ راست رشتہ ٹوٹ چکا تھا ۔ ریاست کے انتظام کے لیے بیوروکریسی کا پورا نیا نظام لائے جو ان کے ہرکاروں کا کام کرتے تھے ۔ ریاست اور عوام سے وفادار فوج کے بجائے کرائے کی فوج کا تصور لایا گیا جو اپنے ان آقاوں کے وفادار تھے جو انہیں تنخواہ دیتے تھے ۔ انگریزوں سے وفادار نوابوں ، بیوروکریسی اور فوج کا تسلسل بھارت اور پاکستان اور اب بنگلادیش میں بھی منتقل ہوگیا ۔ یہ انتظام و انصرام اب تک نہ صرف جوں کا توں قائم ہے بلکہ اس میں مزید بہتری اور جدت لائی گئی ہے ۔ آج بھی آپ کو مختلف رجمنٹس میں سو سال پرانی تصاویر آویزاں نظر آئیں گی جو ان کے قیام کے وقت کی ہیں اور ان رجمنٹس میں ان کے قیام کی سو سالہ تقریبات بھی فخریہ منائی جاتی ہیں ۔

جب انگریز حکمرانوں کا یہ تسلسل ہر طبقے میں اس طرح سے جاری ہو ، ان کا نظام تعلیم ان کے کارندے مسلسل پیدا کررہا ہو تو کس طرح سے یہ سارے حکمراں انگریز کے حکم سے سرتابی کرسکتے ہیں ۔ یہ صرف پاکستان کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ہر اس ملک کا معاملہ ہے جو نوآبادیاتی قبضے کا شکار رہا ۔ اس میں بھارت ، پاکستان ، بنگلا دیش ، سری لنکا ، برما یا کسی اور ملک کی کوئی تخصیص نہیں ہے ۔افریقا چونکہ فرانس کے قبضے میں تھا ، اس لیے وہاں پر فرانسیسیوں کا تسلسل ہے ۔ اسی طرح جن ممالک پر پرتگیزیوں کا قبضہ تھا ، وہاں پر ان کا تسلسل ہے ۔ آپ ایک بات پر غور کریں کہ چاہے انگریز ہوں ، فرانسیسی ہوں یا پرتگیزی ، ڈوری ایک ہی جگہ سے ہلتی ہے اور ایک ہی ردھم میں سارے ممالک کے حکمراں یا دیگر مقتدر طبقات والہانہ رقصاں رہتے ہیں ۔ ایک بات پر اور غور کریں کہ برصغیر پرقبضہ تاج برطانیہ نے نہیں کیا تھا بلکہ اس پر ایسٹ انڈیا کمپنی نے قبضہ کیا تھا ۔ بہت کم لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے مالکان روتھس شیلڈ تھے جو آج ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کے سازشکاروں کے لیڈر ہیں ۔ جب روتھس شیلڈ نے برصغیر سے سارا رس چوس لیا تو پھر انہوں نے اس کا انتظام تاج برطانیہ کے سپرد کردیا ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس وقت فرانس ، برطانیہ ، امریکا سمیت تقریبا تمام ہی اہم ممالک پر یاتو روتھس شیلڈ براہ راست قابض ہوچکے تھے یا پھر وہاں پر ان کے اشتراک کار موجود تھے ۔ اس موضوع پر میں اپنی کتاب جنگوں کے سوداگر پر تفصیل سے لکھ چکا ہوں ۔ اگر احباب اس کتاب کو پڑھنا چاہیں تو ای میل پر پی ڈی ایف کی صورت میں طلب کی جاسکتی ہے ۔

عرب ممالک کے حکمراں دیگر ممالک کے مقابلے میں اپنے آقاوں کے زیادہ وفادار ہیں ۔ کیوں ؟ اس پر گفتگو آئندہ آرٹیکل میں ان شاءاللہ تعالیٰ ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔

hellomasood@gmail.com
www.masoodanwar.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *