مقبوضہ کشمیر سے معلومات کا باہر نہ آنا باعث تشویش ہے، اقوام متحدہ

اسلام آباد (ویب ڈیسک) اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کےترجمان رُوپرٹ کولوائل نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمیٹی کے ترجمان کی طرف سے جاری وڈیو بیان میں کہا گیاہے کہ ہم بھارتی مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ اب ایک نئی سطح پر ہے۔

روپرٹ کولوائل نے کہا کہ ہم نے اپنی 8جولائی 2019 کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر رپورٹ میں جاری بھارتی مظالم کا ذکر کیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ کیسے بھارت مقبوضہ کشمیر میں اختلاف رائے کو دبانے کو انتظامیہ بار بار ذرائع مواصلات کو بند کر تا ہےمقبوضہ کشمیر کی انتظامیہ سیاسی مخالفین کو سزا دینے کے لئے عقوبت خانے استعمال کرتی ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی کے ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر انتظامیہ مظاہرین سے نمٹنے کے لئے طاقت کےبتدریج استعمال سے عوام کو زخمی اور ماورائےعدالت قتل عام کر رہی ہے۔

UN Geneva

@UNGeneva

“We are deeply concerned that the latest restrictions in Indian-Administered #Kashmir will exacerbate the human rights situation in the region. The fact that hardly any information at all is currently coming out is of great concern in itself,” — @UNHumanRights spokesperson.

بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں تازہ ترین پابندیاں خطے میں انسانی حقوق کی صورتحال کو مزید ابتر کریں گی۔ مقبوضہ کشمیر میں ذرائع مواصلات پر موجودہ مکمل پابندی کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر کے سیاسی قائدین زیر حراست ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی ریاستی اسمبلی پر بھی پابندیاں عائد کی گئیں ہیں۔

روپرٹ کولوائل نے کہا کہ ان پابندیوں سے مقبوضہ کشمیر کے عوام اور نمائندے مقبوضہ کشمیر کے مستقبل کی جمہوری بحث میں حصہ لینے سے محروم ہو رہے ہیں۔

انسانی حقوق کمیٹی کے ترجمان نے کہا کہ بین الاقوامی انسانی و سیاسی کنوینشن کے تحت مقبوضہ کشمیر میں آزادی اظہار رائے اور معلومات کی فراہمی اور حصول متاثر ہو رہےہیں جس کا بھارت دستخطی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کمیٹی کے مطابق ان پابندیوں سے حقوق کی کشمیریوں کی خلاف ورزیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ انسانی حقوق کمیٹی تنبیہ کرتی ہے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر سے معلومات کا باہر نہ آنا باعث تشویش ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *