کشمیر ہمارا ہے؟

تحریر: زید حامد

کشمیر کے معاملے پر 1948 سے سٹیٹس کو برقرار تھا جو آج بھارت نے توڑ دیا ہے- کشمیر کا خصوصی ریاستی درجہ ختم ہونے کے نتائج کا کیا ہمیں اندازہ ہے؟ اگر ہے تو کل کے نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں اس معاملے پر بھارت کو خبردار کیوں نہ کیا گیا جبکہ انٹرنیشنل میڈیا دو دن سے اسی خدشے کا اظہار کر رہا تھا؟

خیر سوال یہ ہے کہ اب ہو گا کیا؟ کشمیری مظاہرے کرتے رہیں گے اور بھارت طاقت کے بل پر انہیں کچلتا رہے گا۔ بین الاقوامی برادری چند ایک محتاط قسم کے ڈھیلے ڈھالے بیان جاری کرے گی۔ سال دو سال بعد کسی بین الاقوامی جریدے کے جاری کردہ نقشے میں مقبوضہ کشمیر کو متنازعہ علاقہ دکھانے کی بجائے بھارت کا حصہ دکھایا جائے گا، رفتہ رفتہ ساری دنیا کے نقشے تبدیل ہو جائیں گے۔ ہم بھلے کچھ بھی کہتے رہیں، لائن آف کنٹرول کو انٹرنیشنل ورکنگ باؤنڈری کا سٹیٹس مل جائے گا۔ چند سال میں ساری دنیا کشمیر کو بھارت کا سیٹلڈ ایریا ماننے لگے گی، متنازعہ علاقہ صرف وہ کشمیر رہ جائے گا جو ہمارے زیرانتظام ہے- یہ سب آپ کو بعید از قیاس لگ رہا ہے تو گلگت بلتستان پہ ایک نظر ڈال لیں۔ یہاں بھی ڈوگرہ راج تھا، مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت سے الحاق کا اعلان کیا تھا تو گلگت بلتستان نے بھی اس الحاق کا حصہ ہونا تھا، مگر یہاں کے لوگوں نے لڑ کر آزادی حاصل کر لی۔ ہم نے ستر کی دہائی میں گلگت کا ریاستی اسٹیٹس ختم کر دیا، بھارت تب سے اب تک اس پر احتجاج کرتا رہتا ہے مگر ساری دنیا اس علاقے کو پاکستان کا حصہ تسلیم کرتی ہے- بھارت کے معاملے میں دنیا کا ردعمل مختلف کیوں ہوگا؟ اقوام متحدہ کی ستر برس پرانی قراردادوں کو دنیا کیوں وقعت دے گی؟ حقیقت یہ ہے کہ مودی نے عملاً کشمیر ہم سے ہمیشہ کیلئے چھین لیا ہے-

اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ ہم اب کیا کریں گے۔ مودی سرکار نے یہ قدم بہت سوچ سمجھ کر کچھ ٹھوس وجوہات کی بنا پر اٹھایا ہے- دیکھیں، کشمیر کا سٹیٹس تبدیل کرنے کی کسی بھی بھارتی کوشش کو ناکام بنانے کیلئے پاکستان کے پاس صرف چار آپشن تھے۔

پہلا آپشن سفارتکاری تھا۔ ہمارا اقوام عالم میں جو مرتبہ اور مقام ہے اس کے پیش نظر اقوام متحدہ، امریکہ اور عالمی برادری سے ہم زیادہ سے زیادہ چند ایک محتاط قسم کے مذمتی بیانات ہی کی توقع رکھ سکتے ہیں۔ بھارت جانتا ہے کہ اسرائیل کی طرح وہ بھی ان بیانات کو بآسانی نظرانداز کر سکتا ہے- ماضی قریب میں جس کسی نے بھی ہمیں اپنا گھر درست کرنے کا مشورہ دیا۔ انتہاپسندوں کے خلاف کاروائی کرنے کو کہا، اپنی منجی تلے ڈانگ پھیرنے کی استدعا کی، وہ ریاستی اداروں اور ان کی چچوڑی ہڈیاں چبانے والوں کی نظر میں غدار ٹھہرا۔ غدار آپ کو اس دن سے ڈراتے تھے۔ نواز شریف نے برہان وانی کی شہادت کے بعد دنیا کے بائیس دارالحکومتوں میں وفود بھیجے تھے، اور ان سب نے وطن واپسی پر وہی کچھ کہا تھا جو نواز شریف نے دہرایا تو ڈان لیکس ہو گئیں۔

دوسرا آپشن مذاکرات تھے۔ نواز شریف اپنے پانچ سال یہ کوشش کر کے مودی کا یار کہلایا مگر مودی کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے میں ناکام رہا۔ اس کے جانے کے بعد اب اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی سے عمران خان اپنے ایک سال بھرپور کوشش کر چکے، اس کوشش میں ترلے، منتیں، تھرڈ پارٹیوں سے اپیلیں سب کچھ شامل تھا مگر بھارت مذاکرات کی میز پر آنے کو تیار نہیں- اس کے پیچھے سوچی سمجھی پالیسی یہی ہے کہ مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو فریقین کو کچھ نہ کچھ اقدامات اعتماد کی بحالی کیلئے اٹھانا پڑتے ہیں۔ مودی سرکار پاکستان کو کسی قسم کی رعایت دینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔ بھارت معاشی، عسکری اور سفارتی محاذ پر اتنا طاقتور ہے کہ پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کی اسے اب عملاً ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔

تیسرا آپشن جہادی تنظیمیں تھیں۔ کارگل کے احمقانہ ایڈونچر سے اب تک بھارت نے نہایت عیاری سے ہمارے اس ہتھیار کو ہمارے ہی خلاف استعمال کر کے بالآخر اب ایف اے ٹی ایف کے ذریعے عملاً ناکارہ کر دیا ہے- ان تنظیموں کے ذریعے ہمیں مقبوضہ کشمیر میں جو تھوڑی بہت لیوریج حاصل تھی اب وہ باقی نہیں رہی۔ صرف ڈیڑھ ماہ بعد ایف اے ٹی ایف نے ہمارے معاشی مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے اس لئے ہم جہادیوں کو دوبارہ کشمیر بھجوانا فی الحال افورڈ نہیں کر سکتے۔

پاکستان اپنا چوتھا اور آخری آپشن کس حد تک استعمال کرنے کو تیار ہے، یہ جاننے کیلئے تین چار ماہ قبل بالاکوٹ کا ایڈونچر کیا گیا۔ ہم نے صحیح سلامت مدرسہ اور مرا ہوا کوا دکھا کر کچھ پوائنٹ سکور کر لئے، بھارت کا ایک طیارہ مار گرایا، پائلٹ گرفتار کر لیا اور قوم کا مورال بلند کرنے میں کامیاب رہے۔ مودی نے یہ دیکھ لیا کہ پاکستان بس اتنا ہی آگے بڑھے گا جتنا ہم اسے مجبور کریں گے۔ اتنی تسلی اس کیلئے کافی تھی۔ اتنی تسلی کے بعد ہی اس نے آج اتنا بڑا قدم اٹھایا ہے۔

ہمارے ہاتھ میں اب صرف یہی آخری آپشن ہے، اور اس کا ری ایکٹو کی بجائے پرو ایکٹو استعمال ہی ہمارا پہلا اور دوسرا آپشن بحال کر سکتا ہے- بین الاقوامی ثالثی اور دوطرفہ مذاکرات کے جو دروازے بھارت نے بند کر رکھے، ہمیں اب انہیں لات مار کر توڑنا ہوگا۔ اگر اب بھی ہم عالمی فورمز پر دہائی دینے سے زیادہ کچھ نہیں کر پاتے تو اس کا سادہ اور آسان مطلب ہوگا ادھر تم، ادھر ہم۔ دوسرے لفظوں میں مقبوضہ کشمیر سے عملاً دستبرداری۔
اب ” پاکستان کا بچہ بچہ کشمیریوں کے ساتھ ہے” اور ” قوم کا دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتا ہے” اور “سیسہ پلائی دیوار” جیسے مردہ اور بے جان کلیشوں کی جگالی کرنا کافی نہیں۔ اب “اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت” کافی نہیں ہے، کشمیر کو آپ کی عسکری حمایت درکار ہے- وہ دن جس کیلئے قوم اپنا پیٹ کاٹ کر فوج کی ہر ضرورت پوری کرتی چلی آئی ہے، آن پہنچا ہے-

ملک میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کی جائے، ہسپتالوں، عدالتوں، ضروری سرکاری محکموں کے علاوہ عام تعطیل کا اعلان کر دیا جائے۔ عوام کو غیر ضروری گھروں سے نکلنے سے روک دیا جائے۔ فیول کی راشننگ کر دی جائے تاکہ ہم ایک ماہ فوج کی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہو سکیں۔

ہمارے خزانے میں اس وقت سات ارب ڈالرز کے لگ بھگ موجود ہیں جو پندرہ دن کی جنگ کیلئے کافی ہیں۔ خوراک اور تیل کے علاوہ تمام درآمدات پر پابندی لگا دی جائے تاکہ یہ رقم پانچ چھ دن مزید چل سکے۔ پاکستانیوں کا کمرشل بنکوں میں چار سے پانچ ارب ڈالر پڑا ہوا ہے جو ایمرجنسی کی صورت کام آ سکتا ہے- گولہ بارود اور میزائلز کا اتنا ذخیرہ ہمارے پاس ہے جو ایک ماہ کیلئے کافی ہو۔

ریاست مقبوضہ کشمیر میں جہاد کا اعلان کرے مگر اس بار یہ جہاد پرائیویٹ نہیں سرکاری ہو۔ ہماری سات آٹھ لاکھ فوج اپنی تربیت، تنظیم اور دلیری میں دنیا کی کسی بھی بہترین فوج سے کم نہیں ہے- لیکن اگر یہ کم پڑتی ہے تو کشمیر کیلئے ہم سب حاضر ہیں۔ میں رضاکارانہ طور پر اپنی جان، مال پاک فوج کے حوالے کرتا ہوں۔ مجھے کسی بھی محاذ پر کوئی بھی ذمہ داری نبھانے بھیج دیا جائے میں اس کیلئے تیار ہوں۔ باقی قوم بھی یہی جذبہ رکھتی ہے-

ہمیں اب ثابت کرنا ہے کہ کشمیری فلسطینیوں کی طرح لاوارث نہیں ہیں۔ اور ان کے پڑوسی عرب ریاستوں کی طرح بزدل اور بے غیرت نہیں ہیں۔ کشمیر پر ایک محدود مگر بھرپور حملہ ہی واحد آپشن ہے اگر ہم مسئلہ کشمیر کو کم از کم زندہ بھی رکھنا چاہتے ہیں تو۔

ہمیں نہ تو چین سے کسی عسکری مہم جوئی کا خطرہ ہے، نہ ایران و افغانستان مستقبل قریب تو کیا بعید میں بھی ہم پہ حملہ کرنے کا سوچ سکتے ہیں۔ نہ بحیرہ عرب سے کوئی ولایتی طاقت ہم پہ چڑھائی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے- ہمیں اور ہمارے وجود کو درپیش واحد خطرہ بھارت تھا اور ہمارا بھارت کے ساتھ واحد تنازعہ کشمیر تھا جس کیلئے ہم نے اپنی اوقات اور استطاعت سے کہیں بڑی فوج تیار کی۔ اسے ہر قسم کے جدید اسلحے سے لیس کیا، اسے جدید ترین تربیت مہیا کی، اس کیلئے پیٹ کاٹ کر نیوکلئیر ہتھیار بنائے میزائل حاصل اور تیار کئے۔ اب ان سب کی آزمائش کا وقت ہے-

اگر اب بھی آپ نے امن کے گیت ہی ریلیز کرنا ہیں تو اللہ کا واسطہ ہے پھر مقبوضہ کشمیر کے بہن بھائیوں سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لیں۔ انہیں بتا دیں کہ ہم آپ کیلئے دعاؤں کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے۔ آپ ہم سے امید رکھنا چھوڑ دیں۔ الحاق پاکستان کی آس میں اپنے بچے مت مروائیں اور ہو سکے تو ہمیں معاف کر دیں۔

اگر اب بھی جنگ نہیں کرنی تو مائی باپ ہمیں جمہوریت اور معیشت پہ لیکچر حسب معمول دیتے رہیں مگر اتنا احسان کریں کہ اپنی نفری گھٹا کر آدھی کر لیں۔ اگر صرف باتیں ہی کرنا ہیں تو ان کیلئے ہم خود ہی کافی ہیں۔

زید حامد

5 thoughts on “کشمیر ہمارا ہے؟

  • June 20, 2020 at 4:56 am
    Permalink

    You actually make it seem so easy with your presentation but I to find this topic
    to be actually one thing which I think I’d never understand.

    It kind of feels too complicated and very vast for me. I’m having a look
    ahead on your subsequent post, I’ll try to get the hold
    of it!

    Reply
  • June 21, 2020 at 7:06 pm
    Permalink

    Hi, I want to subscribe for this webpage to get most recent
    updates, therefore where can i do it please
    help out.

    Reply
  • June 22, 2020 at 7:10 am
    Permalink

    Heya i’m for the primary time here. I found this board and I find It really useful & it helped me out much.
    I hope to give something back and aid others such as you helped me.

    Reply
  • June 24, 2020 at 3:44 pm
    Permalink

    What i do not realize is in fact how you are no longer actually much more well-appreciated than you
    might be right now. You are very intelligent. You understand
    thus considerably in relation to this matter, made me in my view
    imagine it from a lot of varied angles. Its like men and women are not interested
    except it is one thing to accomplish with Woman gaga!
    Your own stuffs excellent. Always maintain it
    up!

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *