لاہور : بارش میں وزیر اعلی پنجاب لوگوں کو پانی سے خود نکالتے رہے

لاہور(این اے) صوبائی دارالحکومت میں بارش کے بعد سڑکوں کا برا حال ہوا وزیراعلیٰ پنجاب لاہور میں بارش کے بعد کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے گاڑی میں نکل پڑے اور پانی میں پھنسے لوگوں کو خود نکالتے رہے،انہوں نے پانی میں پھنسی خواتین کو لفٹ دی اور انہیں منزل مقصود  تک  بھی پہنچایا۔

پنجاب حکومت کے ترجمان شہباز گل نے وزیراعلی پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار کی لاہور شہر میں اپنی گاڑی کی ڈرائیونگ کے دوران گشت کی وڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھی ڈال دی ۔

وزیر اعلی پنجاب سردارعثمان احمد خان بزدار نے گزشتہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لاہور کو پیرس بنانے کا دعویٰ کرنے والوں نے شہر میں پانی کے نکاس کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا۔

Embedded video

انہوں نے خود گاڑی چلاکر مختلف شاہراہوں پر نکاسی آب کی صورتحال کاجائزہ لیا، ضلعی انتظامیہ اور واسا کو شہر کی شاہراہوں سے فوری طور پر پانی نکالنے کی ہدایت کی۔

کل تک سابق وزیراعلی شہباز شریف پر تقید کرنے والے میاں محمود الرشید انہی کی روش پر گامزن ہوگئے، صوبائی وزیرہاؤسنگ نے لاہور کے مختلف علاقوں میں نکاسی آب کے انتظامات کا جائزہ لیا۔

لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی بارش نے شہر کا نقشہ ہی بدل دیا، موسلادھار بارش سے سڑکیں اور گلیاں پانی سے بھر گئیں۔لاہور کا معروف تجارتی مرکز ہال روڈ بارش سے جل تھل ہو گیا، سڑک پر 15 فٹ گہرا شکاف پڑ گیا جس کی وجہ سے پلازے کی بیسمنٹ میں پانی بھر گیا۔

ہال روڈ کے تاجروں نے شکوہ کیا ہے کہ  متعدد شکایات درج کرانے کے باوجود ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کوئی نہیں آیا۔ کروڑوں روپے کا الیکٹرونکس سامان زیر آب آگیا ہے۔ ہم اپنا سامان بھی نہیں نکال سکے۔ واسا کی نااہلی اور سستی نے ہال روڈ کے تمام تاجروں کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔

آج وقفے وقفے سے شہر کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش ہوتی رہی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق  لکشمی چوک میں سب زیادہ 250 ملی میٹربارش ریکارڈکی گئی۔ پانی والا تالاب کے مقام پر 230،  فرخ آباد میں  203 اور چوک ناخدا میں 192ملی میٹربارش ریکارڈ ہوئی۔

اسی طرح اپرمال کے مقام پر 168، سمن آباد اور تاج پورہ 168 ،ائرپورٹ  پر 155،  جیل روڈ151،  گلشن راوی میں 140 ،علامہ اقبال ٹاؤن 121  اورمغل پورہ میں 92ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *