کرتارپور کوریڈور؛ واہگہ بارڈر پر پاک بھارت مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جاری

لاہور (این اے) ذرآئع کے مطابق کرتارپور کوریڈور سے متعلق بھارت سے مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں پاکستانی وفد کی قیادت ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل کررہے ہیں جب کہ بھارتی 8 رکنی وفدامورداخلہ کے جوائنٹ سیکرٹری ایس سی ایل داس کی سربراہی میں شریک ہے۔

کرتارپور کوریڈور؛ واہگہ بارڈر پر پاک بھارت مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جاری ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے کرتارپور راہداری پر دونوں اطراف میں ترقیاتی کام کی پیش رفت سمیت مختلف امورپربات کی جارہی ہے۔ اجلاس میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے بہت سے تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کریں گے، اجلاس میں بھارتی سکھ یاتریوں کے پاکستان میں انٹری کے طریقہ کار، رجسٹریشن ، کسٹم، امیگریشن، انٹری فیس، کرنسی کی حد، ٹرانسپورٹ، میڈیکل ایمرجنسی، گوردوارہ دربارصاحب میں قیام کا دورانیہ سمیت دیگراہم امورکوحتمی شکل دی جارہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کے اعتراض کے بعد پاکستان نے سکھوں کی بنائی گئی کمیٹی پر نظرثانی کی ہے اور نئی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

مذاکرات سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر بابا گرو نانک کی 550 ویں سالگرہ پر کرتار پور راہداری کھولی جا رہی ہے، کرتار پور راہداری پر 70 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، پاکستان راہداری کو مقررہ وقت پر کھولنے کا خواہش مند ہے، مذاکرات کے لئے مثبت سوچ سے آگے بڑھ رہے ہیں، مذاکرات کے پہلے دور کے بعد دوسرا دور خوش آئند ہے، ہم اپریل میں بھی مذاکرات کے لیے تیار تھے تاہم بھارت کی جانب سے اسے ملتوی کیا گیا۔

واضح رہے کہ پاکستان اوربھارت کے مابین کرتارپور راہداری پر مذاکرات کا پہلا مرحلہ 14 مار چ کو بھارت کے اٹاری بارڈر پر ہوا تھا، اس کے بعد دونوں ممالک کے مابین 2 اپریل کو واہگہ بارڈر پر مذاکرات طے پائے تھے تاہم بھارت نے ان مذاکرات میں شرکت سے انکارکردیاتھا، 3 ماہ بعد بھارت اسی واہگہ کے مقام پرپاکستان کے ساتھ بات چیت کررہا ہے اوران مذاکرات کی درخواست بھی اس باربھارت کی طرف سے کی گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *