محکمہ بلدیات میں ایک سے زیادہ عہدے رکھنے کا ریکارڈ۔۔۔سپریم کورٹ کے احکامات کی سنگین خلاف ورزی

کراچی(رفیق آزاد) وزیر بلدیات سندھ کی بلدیاتی اداروں کو کھلی چھوٹ،سپریم کورٹ کے احکامات کی سنگین خلاف ورزیاں عروج پر پر پہنچ گئیں،اداروں کے سربراہ ہی ایک سے زائد عہدوں پر براجمان تفصیلات کے مطابق وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کی آشیر باد کے پیش نظر لوکل گورنمنٹ کے تحت چلنے والے محکمے بدعنوانی اور کرپشن کا گڑھ بنتے جارہے ہیں۔ادارہ ترقیات کراچی( کے ڈی اے)کے سربراہ کے پاس ڈی جی کے ڈی اے کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹر لینڈ کی اضافی چارج بھی موجود ہے جبکہ ماتحت افسران میں سے چند ایک ایسے نہیں جنکے پاس چار چار عہدوں کا اضافی چارج بھی ہے جبکہ کراچی واٹر سیوریج بورڈ میں چیف انجینئر غلام قادر عباس کے پاس واٹر اور سیوریج کے علاوہ تیسری اضافی زمے دزری پروجیکٹ ڈائریکٹر فلٹر پلانٹ کی بھی ہے جو کہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کی سراسر نفی ہے چیف انجینئر اسد اللہ خان کے پاس منیجنگ ڈائریکٹر کے ساتھ ساتھ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ٹیکنیکل سروسز کا چارج بھی بھی ہے مذکورہ افسر نان کیڈر ہونے کے علاوہ متعلقہ پوسٹ کی اہلیت ہی نہیں رکھتےتاہم وزیر بلدیات کی پرزور سفارش پر انہیں دونوں ذمہ داریاں سونپی گئیں ہیں اسی طرح واٹر بورڈ میں اہم ترین پوسٹ کے فور کے پروجیکٹ ڈاٸریکٹر کی ہے جس پر سول انجینٸر کی بجاٸے صرف بی اے پاس سابق سیکریٹری داخلہ برگیڈیٸر ریٹاٸرڈ اختر ضامن کے بیٹے اسد ضامن کو تعینات کرکے اہم پروجیکٹ کو کھڈے لاٸن لگادیا گیا جو کہ گذشتہ اٹھارہ ماہ سے تعطل کا شکار ہے۔۔۔ سپریٹینڈنٹ (ایس ای)انجینئرالیکٹریکل اینڈ مکینیکل(ای اینڈ ایم ) ہاشم عباس پر اعلی افسران اتنے مہربان ہیں کہ انہیں پروجیکٹ منیجر کے فور،پرجیکٹ منیجر فلٹر پلانٹ اور پروجیکٹ منیجر 100ایم جی ڈی کا چارج دے رکھا ہے گریڈ 19کے سپریٹینڈنٹ انجینئر (ایس ای ) انتخاب گزشتہ 13سالوں سے دھابے جی میں تعینات ہیں اور انہیں اضافی چارج چیف انجینئر واٹر(ای اینڈ ایم )ڈپٹی چیف انجینئر الیکٹریکل اینڈ مکنیکل ،پروجیکٹ منیجر 100ملین گیلن دے رکھا ہے اس طرح شیٹ کلرک بھرتی ہونے والے محمد ثاقب کو 19گریڈ میں ڈائریکٹر اکاونٹس تعینات کر رکھا ہے جنکے پاس اضافی ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر فنانس اور ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ریونیو ریکوری گروپ (آرآر جی) کا چارج بھی سونپا ہوا ہے گریڈ 17کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر (ای اینڈ ایم مظہر حسین پر ورکشاپ ،اسٹور ،کراچی کے تمام واٹر اینڈ سیوریج پمپنگ اسٹیشنز کے انچارج کا اضافی چارج دے رکھا ہے اس طرح سپرٹینڈنٹ انجینئر حسن اعجاز کاظمی کو پروجیکٹ ڈائریکٹر 100ایم جی ڈی اور پروجیکٹ منیجر فلٹرپلانٹس کی اضافی زمہ داریاں دے رکھی ہیں۔جبکہ احمد کھتری جو کہ گریڈ 19میں سپرٹینڈنٹ انجینئر کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں انہیں چیف انجینئر سیوریج (ای اینڈ ایم) اور پروجیکٹ منیجر فلٹر پلانٹس کا اضافی زمہ داریاں ہیں اسی طرح گریڈ 19میں ڈائریکٹر ایڈمن کی اسامی پر تعینات محمد شعیب تغلق کو اضافی ڈی ایم ڈی ایچ آر ڈی اینڈ اے کے فرائض بھی سنبھالنے پڑ رہے ہیں16گریڈ میں اسسٹنٹ ایڈمن عمران اقبال زیدی گذشتہ 15برسوں سے ڈائریکٹر فنانس اینڈ ڈائریکٹر اکاونٹس کے عہدوں کے مزے لے رہے ہیں جو کہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کی کھلی خلاف ورزی اور توہین عدالت کے مترادف ہے۔بیشتر افسران کے پاس ایک سے زائد چارج کے علاوہ قوائد سے ہٹ کر اگلے عہدے پر ترقی پانا بھی شامل ہےجبکہ محکمے میں متعدد قابل اور ایماندار افسران موجود ہیں جنھیں اضافی عہدوں پر تعینات کر کے ادارے میں بہتری لائی جاسکتی ہے ڈائریکٹر اکاونٹس عمران اقبال زیدی کے بارے میں باخبر ذرائع نے بتایا کہ اس کے محکمے میں تین مختلف دفاتر زیر استعمال ہیں جہاں غیر متعلقہ اور پرائیوٹ افراد کمیشن کے معالات طے کرتے ہیں یاد رہے کہ ایم ڈی واٹر بورڈ جب خود سپریم کورٹ کے احکامات کو بالائے طاق رکھ کر سابقہ عہدہ نہیں چھوڑ رہے تو دیگر کو روکنا انکے بس میں کی بات نہیں اسکے لیئے اہل قابل اور ایماندار افسر کی تعیناتی ضروری قرار دی جارہی ہے محکمے کے افسران کی بڑی تعداد اس اندھیر نگری کے خلاف ہے تاہم سندھ حکومت اور صوبائی وزیر کی آشیر باد نے سارا نظام ہی بگاڑ رکھا ہےاس کے علاوہ بوگس فائلوں کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کو ٹھکانے لگایا جا رہا ہے جس کے سبب پانی اور سیوریج کا نظام ابتری کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *