رابطہ عالم اسلامی کے سربراہ نے حج کو سیاسی بنانے کی مذمت کردی

ریاض(ویب ڈیسک) رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے حج کو سیاسی بنانے کی کوششوں کی مذمت کردی ہے اور خبردار کیا ہے کہ حج ایسے اسلامی فریضے کے حقیقی اور روحانی مقاصد کی خلاف ورزی سےگریز کیا جائے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق رابطہ عالمِ اسلامی کے سربراہ نے حج کے موقع پر سیاسی ، فرقہ وار اور تعصبات پر مبنی نعرے بازی کو اسلامی اصولوں سے انحراف قرار دیا ہے۔

ان کے اس بیان سے ایک ہفتے قبل ہی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے حج کو ایک ’’ سیاسی کام‘‘ قرار دیا تھا اور اس کو سیاسی بنانے پر زور دیا تھا۔

محمد العیسیٰ نے کہا کہ سعودی عرب حج کے پُرامن ماحول میں کسی کو رخنہ ڈالنے کی اجازت نہیں دے گا۔

علی خامنہ ای نے تین جولائی کو ایک بیان میں حج کو سیاسی بنانے کی مخالفت کو ’’مذہب مخالف‘‘ فعل قرار دیا تھا۔انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ عازمین حج کو سکیورٹی مہیا کرنے کے لیے سعودی عرب پر بھاری ذمے داری عاید ہوتی ہے اور اس کو سکیورٹی مرتکز ماحول نہیں بنانا چاہیے۔

واضح رہے کہ ایران میں 1979ء میں برپا شدہ انقلاب کے بعد سے اس کے لیڈرقریب قریب ہر سال ہی حج کو سیاسی بنانے کے بیانات داغتے رہتے ہیں اور ایران ماضی میں حج کے موقع پرالحرمین الشریفین میں سرکاری سطح پر گڑ بڑ پھیلانے کی بھی کوشش کرتا رہا ہے۔ سعودی عرب کو ایران کے اس طرح اپنے داخلی امور میں دخل اندازی پر مبنی بیانات اور اقدامات پر گہری تشویش لاحق رہی ہے۔

حج اسلام کا پانچواں رکن ہے اور سیاسی اختلافات کے باوجود یہ تمام دنیا سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے درمیان اتحاد ویگانگت کے فروغ کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔ حج کے موقع پر ہر طرح کے رنگ ونسل ، علاقوں ، ملکوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے فرزندانِ توحید ایک ہی جیسے لباس میں ملبوس تلبیہ کا ورد کرتےنظرآتے ہیں اور ان کے درمیان رنگ ونسل کے امتیازات عملاً مٹ جاتے ہیں۔

مگر گذشتہ برسوں کے دوران میں ایران کی حج کے موقع پر مسلم اُمہ کے درمیان اتحاد کو پارہ پارہ کرنے اور گڑ بڑ پھیلانے کی کوششوں کے مہلک نتائج برآمد ہوتے رہے ہیں۔ایرانی نظام کی شہ پر 1987ء اور 1989ء میں حج کے موقع پر پُرتشدد واقعات پیش آئے تھے جن کے نتیجے میں سیکڑوں افراد مارے گئے تھے۔

گذشتہ سال 23 لاکھ سے زیادہ فرزندانِ توحید نے فریضہ حج ادا کیا تھا ۔اس مرتبہ مناسکِ حج کا 9 اگست کو آغاز ہوگا اور یہ 14 اگست کو پایہ تکمیل کو پہنچیں گے۔سعودی حکومت نے ہمیشہ کی طرح مناسکِ حج کی پُرامن انداز میں تکمیل کے لیے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *