سمندری آلودگی پر قابو پانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں لیکن یہ مسئلہ بہت پرانا ہے۔تیمور تالپور

کراچی(نیوزالرٹ) صوبائی وزیر ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نوابزادہ محمد تیمور تالپور نے کہا ہے کہ مبارک ولیج اور اس سے ملحقہ ماہی گیر علاقوں میں سمندر میں آنے والے تیل سے جو نقصانات ماہی گیروں کو ہوئے ہیں اس کے ازالے کیلئے وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کردی ہے لیکن بدقسمتی سے وفاقی حکومت احتساب کے نام پر جو انتقامی کارروائیاں کررہی ہے اس کی وجہ سے بیورو کریسی تعاون نہیں کررہی انہوں نے یہ بات آج ماہی گیروں کے ایک وفد سے اپنے آفس میں ملاقات میں کہی وفد میں فشر مینز کوآپریٹیو سوسائٹی فش ہاربر کے وائس چیئر مین ابو زر ماڑی والا ڈائریکٹر آصف بھٹی’ ڈاکٹر محمد یوسف عبدالرؤف اور حنیف لاڑاشامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو بتایا کہ شہر بھر کا گندہ پانی اور فیکٹریوں کا آلودہ پانی بغیر ٹریٹمنٹ کے سمندر میں گرنے کی وجہ سے سمندر آلودہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے ساحل پر مچھلی’ جھینگے اور دوسری سمندری اجناس مرگئی ہیں اس لئے آپ فوری طور پر سیپا کے حکام کو ہدایت دیں کہ وہ ٹریٹمنٹ پلانٹ فوری طور پر فیکٹریوں میں نصب کرائیں ۔وفد نے بتایا کہ ہم صدیوں سے ماہی گیری کے پیشے سے وابستہ ہیں اور ہمارے گھر کا دال دلیہ اسی پیشے سے چلتا ہے جب سمندری اجناس مرجائیں گی تو ہمارے گھر کے چولہے ٹھنڈے پڑ جائیں گے اس لئے یہ ضروری ہے کہ سمندر صاف و شفاف اور آلودگی سے پاک ہو تاکہ ہمارے خاندان والوں کی روٹی روزی چلتی رہے۔ صوبائی وزیر نے وفد کو بتایا کہ حکومت سندھ ماہی گیروں کے مسائل کو سمجھتی ہے یہ ماہی گیر شہید بھٹو کے دور سے ہمارے ووٹر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ماحولیات خاص طور پر سمندر میں آلودگی پر قابو پانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں گے تاکہ ان ماہی گیروں کیلئے باعزت طریقے سے روزگار میسر آئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *