جنگ مسائل کا حل نہیں

مکتوب کینیڈا : سید صدیق احمد

بھارت اور پاکستان کی موجودہ صورتحال آج دنیا بھر میں ہر جگہ موضوع بحث ہے۔ نارتھ امریکہ کے رہنے والے بھی اس بحث سے نہیں بچے۔ کینیڈا میں بڑے شہروں،ٹورانٹو،وینکو اورمانٹریال میں بہت بڑی آبادی بھارتی اور پاکستانی نژاد کینڈین کی ساتھ ساتھ ہی رہتی ہے۔ اکثر جگہوں پر تو ایک دوسرے کے پڑوسی بھی ہیں۔ اس لئے ان دونوں کمیونٹی کا اس معاملے میں خاموش رہنا ناممکن ہے۔ جہاں جہاں دفتروں اور کام کی جگہوں پر یہ دونوں کمیونٹی شانہ بشانہ کام کرتی ہے وہاں پر لنچ بریکس اور دوسرے بریکس کے اوقات میں یہ موضوع ضرور زیر بحث آتا ہے۔ غالب اکثریت کا یہی کہنا ہے کہ دونوں ملکوں میں جنگ ہرگز مسائل کا حل نہیں،لیکن یہ بھی حیرانی کی بات ہے کہ زیادہ تربھارتیوں اور پاکستانیوں کو”مسئلہ کشمیر“ کا علم ہی نہیں۔ اکثر بھارتی مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی شرارت سمجھتے ہیں اور ان کا شکوہ یہ ہے کہ کشمیری اگر لڑائی جھگڑا چھوڑ کر صلح پسند ہو جائیں تو کشمیر میں بھی معاشی ترقی و خوشحالی شروع ہو جائے جبکہ پاکستانی کمیونٹی صرف یہ جانتی ہے کہ کشمیر پر بھارت نے جبری قبضہ کررکھا ہے، اور یہی بات لڑائی جھگڑے کا سبب ہے۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود نہ صرف بھارتی و پاکستانی نژاد بلکہ سری لنکن‘ بنگلہ دیشی‘ چائنیز نژاد سمیت تمام اقوام بلکہ گورے بھی یہی بات کہتے ہیں کہ جنگ مسائل کا حل نہیں صرف بات چیت سے ہی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ ایک چائنیز کا یہ کہنا ہے کہ وہاں کے لوگوں کے پاس بہت فالتووقت ہے اس لئے یہ سب ہوتا ہے، اگر ان کو ہر مہینے مارگیج، انشورنس،پانی اور دیگر ضروریات کا بل دینا پڑے تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ گزشتہ روز ایک پلانٹ پر کام کرنے والے مختلف کمیونٹی کے لوگوں نے ایک فوٹو سیشن کیا اور اس میں No War اور Peace کے بینر اٹھا کر یہ پیغام دیا کہ صرف امن ہی اس کا حل ہے۔ اس فوٹو میں شارق صدیقی(کراچی)سید صدیق احمد(کراچی) فیض علی (گیانا) تاجندر سنگھ(بھارتی پنجاب) اجیت ڈھلکو(بھارتی پنجاب) رام سنگھ(بھارتی پنجاب) مائیک لو(چین) حسین آبادی(ایران) ایرنسٹ ایمانویل (سری لنکا) جوزپ انوپ (بھارت) نے حصہ لیا۔سب کا ایک ہی موقف تھا کہ جنگ مسائل کا حل نہیں،
صرف بات چیت ہی امن اور مسائل کا حل ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کاخطرہ
خاصی حد تک ختم ہوگیا ہے۔کشیدگی میں بھی خاصی حد تک کمی آگئی ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتوں اور دیگر کئی اہم ممالک نے کشیدگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کینیڈا وامریکا کے کئی شہروں میں پاکستانی اور بھارتی باشندوں نے مل کر امن کے قیام اور جنگ کے خاتمے کیلئے مظاہرے کئے۔ پاکستانی اور بھارتی جو دنیا کے دیگر ممالک میں رہائش پذیر ہیں وہ اپنی تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔ بھارت میں امن کے خواہش مند دانشوروں نے بھی جنگ کی مخالفت کی۔ غیر ذمہ داربھارتی میڈیا کے ہیجان میں بھی کمی آئی۔ مشہور کہاوت ہے کہ جنگ میں پہلا قتل سچ کا ہوتا ہے۔ اس جنگ میں بھی ایسا ہی ہوا۔ خصوصاً بھارتی میڈیا نے جو ہیجانی کیفیت طاری کی۔ غلط اعداد و شمار اور جھوٹی خبروں کا سلسلہ بھارتی میڈیا میں جاری رہا۔ کئی بھارتی دانشور بھی میڈیا کے اس کردار پر پریشان نظر آئے اور انہیں دانشمندی کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کرتے رہے۔ اس صورتحال میں پاکستانی میڈیا نے نسبتاً ذمہ داری کا کردار ادا کیا۔ پاکستان بھارت کے درمیان کشیدگی کی بنیاد کشمیر کا مسئلہ ہے۔ دوسرا مسئلہ خطے میں طاقت کے توازن کا ہے۔ تیسرا اہم مسئلہ افغانستان ہے۔ بھارت کی جانب سے یہ الزام کہ پاکستان بھارت میں حالیہ دہشتگردی کا ذمہ دار ہے۔ اس سلسلے میں ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔ دہشتگردی کی اب تک واضح تعریف بھی سامنے نہیں ہے۔ مذہب کے نام پر تشدد اور قتل کی کارروائیوں کا سلسلہ قیام پاکستان سے پہلے سے جاری ہے۔ قیام پاکستان کے بعد بھی پرتشدد واقعات ہوئے۔ بھارت میں ہندو ازم کو فروغ دینے والی جماعتیں آر ایس ایس‘ شواہندو پریشد‘ شیو سینا اور دیگر گروپ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف تشدد میں ملوث رہے۔ مسلح گروہ تشکیل پائے۔آج بھارت میں بی جے پی کے اقتدار کے پیچھے انہی کا فلسفہ چل رہا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی کے فروغ کیلئے تشدد کا استعمال غلط ہے۔ چاہے وہ کسی بھی ملک میں ہوا۔ دوسرے عقائد اور نظریے کیخلاف نفرت کو فروغ دینا اسے سیاسی مقاصد کے لیئے استعمال کرنا بھی درست نہیں ہے۔ اسی سے دہشتگردی جنم لیتی ہے۔ جب طاقت کے استعمال سے کسی بھی آبادی کو یا نظریات کو کچلا جاتا ہے تو پورے معاشرے کا توازن خراب ہوتا ہے۔ معاشرے میں انصاف ہو شہریوں کو برابر کی حیثیت حاصل ہو۔ مالی پریشانیاں نہ ہوں تو عوام خود ایسے رجحانات کو ختم کرنے کیلئے آگے آتے ہیں ریاست کی مدد کرتے ہیں۔ تشدد کے استعمال کو روکنا ہر ذمہ دار معاشرے کیلئے ضروری ہے۔ نفرت بھی معاشرے میں تقسیم کا باعث بنتی ہے۔ تشدد مزید تشدد کو جنم دیتا ہے۔نفرت مزید نفرت اور انتشار کے فروغ کا باعث بنتی ہے۔ پاکستان بھارت کے درمیان کشیدگی کا سلسلہ دونوں ملکوں کے قیام سے قبل چلا آرہا ہے۔ اگردونوں ممالک نے دانش مندی کا مظاہرہ کیا ہوتا تو آج دونوں ملکوں کی خوشالی مثالی ہوتی۔ کشیدگی اور جنگ کی فضا میں معاشی ترقی کے اہداف انتہائی مشکل ہوتے ہیں۔ ساری توجہ دفاع کی طرف ہوتی ہے۔ دفاعی اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے موجودہ صورتحال میں بھی یہی کچھ ہورہا ہے۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کس طرف کتنے لوگ مارے گئے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان وجوہات کی تحقیقات کی جائے جس کی وجہ سے تشدد کے واقعات ہوتے ہیں۔ ایسے قوانین کا نفاذ ہو جس سے اس قسم کے رجحانات جنم نہ لیں۔پاکستان اپنے علاقے میں اس قسم کے رجحانات کو ختم کرے تو بھارت کی بھی ذمہ داری ہے کہ نفرت اور تشدد کو اپنے معاشرے میں آگے نہ آنے دے۔ دونوں ممالک کے عوام ہی اصل قوت ہیں۔ جو اپنے اپنے ملک میں ان منفی رجحانات کے خاتمے کا باعث ہوسکتے ہیں۔ عوام کا اصل مسئلہ ان کی اپنی خوشحالی کا ہدف ہے۔ ملک بھی اسی صورت میں آگے بڑھتے ہیں جب اس ملک کے عوام خوشحالی اور ترقی کی جانب گامزن ہوتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بھارت جہاں علم و ادب کو کافی فروغ حاصل ہوا، اور بڑے پیمانے پر شاعر، ادیب اوردا نشور امن اور دوستی کیلئے کام کرتے رہے،وہاں اس کے باوجود بھارتی میڈیا میں ریٹنگ کے چکر میں جنگی جنون کی ہیجانی کیفیت پیدا کی گئی۔ بھارت میں اب کچھ آوازیں آرہی ہیں جو اس جنگی جنون اور ہیجان کیخلاف ہیں۔ کینیڈا کے عوام کی اکثریت کا خیال ہے کہ بھارت اور پاکستان کے اہل دانش کو اس کشیدگی اور تلخی کی فضا کے خاتمے کیلئے آگے بڑھ کرکردار ادا کرنا چاہیے۔ اگر طاقت ہی مسئلے کا حل ہوتا تو افغانستان کا مسئلہ کافی پہلے حل ہوچکا ہوتا۔ امریکا جیسی دنیا کی سب سے بڑی طاقت افغانستان میں مطلوبہ نتائج سے محروم رہی اور اب مذاکرات کی راہ اختیار کی جارہی ہے۔ دنیا میں آگے بڑھنے کا واحد راستہ امن سے منسلک ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں شدید نوعیت کے مسائل سے دو چار ہیں۔ جن ممالک نے دنیا میں تیز رفتاری سے ترقی کی ہے وہ جنگ سے دور رہے امن کی راہ اپنائی۔تعلیم کو فروغ دیا۔ اچھا طرز حکمرانی کو اپنایا(ملکی دولت لوٹ کر بیرون ملک جائیدادیں نہیں بنائیں۔پنامہ میں جعلی اکاونٹ نہیں کھلوائے)۔ تحقیق کو بنیادی اہمیت دی۔ سائنسی ایجادات کی طرف پوری توجہ دی۔ وسائل کا صحیح استعمال کیا۔کینیڈا اور جاپان اس کی بہت بڑی مثال ہیں۔ کیا کشیدگی اور لڑائی سے مسائل حل ہو جائیں گے؟مسائل دا نش مندی، حکمت اور بہتر حکمرانی سے ہی حل ہوں گے۔ دونوں ممالککے میڈیا میں عوام کی بنیادی مسائل کو ثانوی اہمیت دی گئی ہے۔ غربت کے خاتمے کیلئے میڈیا پر کوئی بڑا پروگرام اور بحث نظر نہیں آتی۔ آبی وسائل کے فروغ کو کوئی اہمیت حاصل نہیں۔ آبادی کے دباؤ پر گفتگو نہیں ہوتی۔ تعلیم اور صحت کے مسائل پربہت کم توجہ دی جاتی ہے۔کینیڈا و نارتھ امریکا کے عوام کی اکثریت کا خیال ہے کہ پاکستان اور بھارت کے اہل قلم کو ان مسائل کو موضوع بحث بنانا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *