COMSATS staff goes on protest. Ch Fawad fails to resolve issues

Islamabad – (By Dr Abdullah)

The sources here alleged that Rector Rahil Qamar possessing plagiarized degree. HEC and ministry of science officials are reported covering the person who has administratively failed miserably to protect the rights of staff as,well as the prestigious international institution. Even Fawad,Chaudhry, minister in charge who visited university few weeks ago failed to rectify issues related to staff jobs and their pays,and benefits. Students and academic staff went on strike asking for acceptance of their demands.

 

کامساٹس ملازمین کی جاب. کنفرمیشن اور فائنل ایگزامز کا بائیکاٹ

کامساٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے ملازمین کے حقوق کے تحفظ کی خاطر بنائی گئی “ایکاڈیمک اسٹاف ایسوسی ایشن” (ASA) یونیورسٹی کے ساتوں کیمپسز اسلام آباد، لاہور، ایبٹ آباد، اٹک، واہ، ساہیوال اور وہاڑی میں مکمل پر امن احتجاج پر ہے۔ کل ایبٹ آباد کیمپس میں ایک کلاس نہیں ہوئی اور آج اٹک کیمپس میں ایک بھی پیپر نہیں ہوا۔ “ایکاڈیمک اسٹاف ایسوسی ایشن” کے منتظمیں کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی ملازمین جو کہ ہزاروں کی تعداد میں ہیں، کلرک سے لے کر ڈائریکٹر کیمپسز تک، ریسرچ ایسوی ایٹ سے لے کر ڈین فیکلٹیز تک، گارڈ سے لے کر سینئر آفیسرز ایچ۔آر اور اکاؤنٹس تک، سب کے سب کانٹریکٹ پر ہیں گویا کہ پوری یونیورسٹی تقریباً پچھلے بیس سالوں سے کانڑیکٹ پر چل رہی ہے، ان سب کو مستقل کیا جائے۔

“ایکاڈیمک اسٹاف ایسوسی ایشن” کا مطالبہ ہے کہ ان تمام ملازمین کی جاب کو کنفرم کیا جائے کیونکہ کامساٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کے قواعد وضوابط 2009ء کی دفعات 21-22کے مطابق کوئی بھی ملازم جب آزمائشی دورانیے (probation-period) کو مکمل کر لے گا تو اسے جاب کنفرمیشن لیٹر جاری کیا جائے گا جو کہ تاحال کسی بھی ملازم کو جاری نہیں کیا گیا ہے۔ “ایکاڈیمک اسٹاف ایسوسی ایشن” کا یہ مطالبہ ایک آئینی مطالبہ ہے اور تمام کیمپسز کی ایسوسی ایشن نے متفقہ طور یہ فیصلہ جاری کیا ہے کہ اپنے اس آئینی حق کے حصول کی خاطر وہ اس سمسٹر میں احتجاجا فائنل ایگزامز کی کنڈکشن نہیں کروائیں گے۔

اپنے آئینی حق کی خاطر اس قسم کے پرامن احتجاج کی آئین بالکل اجازت دیتا ہے۔ کامساٹس انتظامیہ کی طرف سے اس احتجاجی کال کا یہ جواب دیا گیا کہ یونیورسٹی کی سینیٹ کمیٹی ملازمین کی جاب کنفرمیشن لیٹر کے بارے میں جلد ہی کوئی فیصلہ جاری کرے گی۔ “ایکاڈیمک اسٹاف ایسوسی ایشن” کے مطابق یہ جواب لاجیکل اور آئینی نہیں ہے کہ یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ سے یونیورسٹی بننے کے مراحل میں تا حال یونیورسٹی، انسٹی ٹیوٹ کے قواعد وضوابط کے مطابق چل رہی ہے لہذا جو حق کامساٹس انسٹی ٹیوٹ کے سروس قوانین (service-statutes) نے پہلے ہی سے ملازمین کو دے رکھا ہے، اس حق کے بارے دوبارہ کمیٹی سے فیصلہ کروانا کہ وہ ملازمین کو دینا چاہیے یا نہیں، خود اس آئین کی توہین کے مترادف ہے کہ جسے بورڈ آف گورنرز نے 2001ء میں پاس کیا تھا اور وہ ایک مقننہ (legislative-authority) ہے۔

بہر حال اس وقت سب کی سب فیکلٹی بلکہ اسٹاف اور ایڈمنسٹریشن کی بھی خواہش یہی ہے کہ انہیں جاب کنفرمیشن کا لیٹر ملے، اس لیے “ایکاڈیمک اسٹاف ایسوسی ایشن” صرف فیکلٹی ہی نہیں بلکہ انتظامیہ مثلا ًایچ۔او۔ڈیز، ڈینز، ڈائیریکٹرز اور اسٹاف کے حقوق کے لیے بھی آواز بلند کر رہی ہے جو او۔جی (OG) پر ہیں۔ ایسوسی ایشن کے مطابق یہ کامساٹس کے ملازمین کا بنیادی انسانی حق (fundamental-human-right) ہے اور اس کے لیے ان کی ہاں میں ہاں ضرور ملانی چاہیے کیونکہ اسی میں سبھی ملازمین کا بھلا ہے بلکہ اصلا بھلا تو ان ملازمین کا ہے جو او۔جی (OG) پر ہے جو کہ یونیورسٹی کا اپنا بی۔پی۔ایس (BPS) نظام ہے۔ اب اکثر پبلک سیکٹر یونیورسٹیز نے بی۔پی۔ایس (BPS) سسٹم کو کانریکٹ کے طور پر نافذ کیا ہوا ہے تو گویا اس وقت ہمارے تعلیمی نظام میں دو قسم کے بی۔پی۔ایس (BPS) نظام نافذ ہیں؛ کانٹریکٹ اور پرمانینٹ۔ میں تو خود ٹی۔ٹی۔ایس (TTS) پر ہوں اور ٹی۔ٹی۔ایس (TTS) والوں کا جاب کنفرمیشن لیٹر سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن پھر بھی اپنے ان بھائیوں کے ایک بنیادی حق کے لیے آواز اٹھانے کو ایک نیکی سمجھتا ہوں۔

ہم جس سسٹم کے تحت زندگی گزار رہے ہیں یعنی کیپٹلزم، اس کا خاصہ یہی ہے کہ ایمپلائز کو اس حال میں رکھو کہ جس میں دڑبے کی فارمی مرغیاں ہوتی ہیں، دکاندار ایک کو ہاتھ ڈالتا ہے، وہ بس چوں کی آواز نکالتی ہے، اور باقی ڈر کے مارے ادھر ادھر ہوجاتی ہیں، یہ کیپٹلزم کے نظریے پر قائم ہر آرگنائزیشن کا بنیادی اسٹرکچر ہے کہ جس میں لوگوں کو غیر محفوظ (insecure) کر کے ان کی غلاموں جیسی اطاعت سے محظوظ ہوا جاتا ہے۔ کانٹریکٹ پر ایمپلائیز زیادہ غیر محفوظ (insecure) ہوتے ہیں لہذا اکثر آرگنائزیشنز اس کو پسند نہیں کرتی کہ لوگوں کو مستقل جاب آفر کی جائے کیونکہ خوف یہ لاحق ہوتا ہے کہ وہ پھر ایڈمنسٹریشن کے اس طرح کے اطاعت گزار نہیں رہ جاتے جیسا کہ وہ چاہتے ہیں یعنی ان کی ہر الٹی سیدھی بات کی ہاں میں ہاں نہیں ملاتے رہتے۔ تو مشورتاً عرض یہی ہے کہ ہمارے ادارے یعنی کامساٹس یونیورسٹی کی ایڈمنسٹریشن کا یہ تاثر بالکل بھی ایمپلائز پر نہیں پڑنا چاہیے کہ وہ انہیں ملازمت کے چلے جانے کے کسی بھی قسم کے خوف کی فضا میں رکھنا چاہتے ہیں۔ اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ملازمین کی جاب کنفرمیشن کا لیٹر جاری کیا جائے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کسی بری بات کو دیکھو تو اس کو ہاتھ سے روک دو، اور اگر ہاتھ سے نہ روک پاؤ تو زبان سے روک دو، اور اگر زبان سے نہ روک پاؤ تو کم از کم دل میں برا جانو اور اس کے بعد تو ایمان رائی کے دانے کے برابر بھی نہیں ہے۔ تو کیا آپ کا جاب کنفرمیشن لیٹر جاری نہ ہونا، ایک بری بات ہے یا نہیں، آپ کے ساتھ زیادتی ہے یا نہیں، ناانصافی ہے یا نہیں؟ تو یہ لوگ آپ کا کیس لڑ رہے ہیں اور آپ سے صرف حمایت چاہتے ہیں۔ اگر آپ دل سے سمجھتے ہیں کہ یہ آپ کا کیس نہیں لڑ رہے تو اگر ان کی کامیابی کی صورت میں جاب کنفرمیشن کا لیٹر آپ کو ملے تو اسے واپس کر دیجیے گا کیونکہ یہ آپ کے بقول آپ کا کیس نہیں لڑ رہے تھے۔ باقی اسٹوڈنٹس کے ایگزامز ایک ہفتہ موخر ہو جائیں گے تو ایگزامز کا ری شیڈیول ہونا لاہور بورڈ میں بھی ہوتا رہا ہے اور پبلک سیکٹر یونیورسٹیز میں بھی معمول کی بات ہے جبکہ وجہ بھی معمولی ہوتی ہے اور یہاں تو ایک بنیادی حق 2009ء یعنی تقریباً پچھلے دس سال سے تاخیر کا شکار ہے۔

اور ہمیں امید ہے کہ کامساٹس یونیورسٹی کی ایڈمنسٹریشن بھی اس مسئلے کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے اور ضرور ہی کوئی حل نکالے گی کیونکہ “ایکاڈیمک اسٹاف ایسوسی ایشن” ان کے حق کے لیے لڑ رہی ہے اور وہ یہ خواہش کبھی نہیں رکھ سکتے کہ ہمیں ہمارا حق نہیں چاہیے۔ بس مسئلہ بعض اوقات الجھاؤ کا شکار ہو جاتا ہے کہ حالات پیچیدہ ہو جاتے ہیں لہذا کچھ سمجھ نہیں آ رہی ہوتی کہ کیا کیا جائے۔ اللہ سے دعا ہے کہ جلد ہی یہ الجھاؤ، ایڈمنسٹریشن ہی میں سے بعض لوگوں کی حکمت اور فراست کی وجہ سے کسی سلجھاؤ کی طرف بڑھے کہ ایسوسی ایشن کا یہ مطالبہ بالکل جائز ہے اور اس میں بہت تاخیر ہو چکی، اور مزید تاخیر حالات کو مزید الجھا دے گی جو ایمپلائز اور ادارے دونوں کے حق میں مفید نہیں ہے۔ تو آپ فیکلٹی میں سے ہیں یا ایڈمن میں سے، اپنے حق میں اگر خود آواز نہیں اٹھا سکتے تو کم از کم ان لوگوں کو اسپورٹ کریں کہ جو آپ کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں تا کہ کلمہ حق کہنے کی یہ سنت تا قیامت جاری رہے کہ دنیا میں جو تھوڑا بہت انصاف قیامت تک دیکھنے کو ملتا رہے گا تو وہ اس سنت پر عمل کی وجہ ہو گا اور اس پر عمل خوش نصیبوں کا ہی حاصل ہوتا ہے۔

One thought on “COMSATS staff goes on protest. Ch Fawad fails to resolve issues

  • June 18, 2019 at 9:53 am
    Permalink

    Combats need a,lawful degree holder VC and a proper leadership that should resolve issues related to staff. NewsAlertlive deserves commendation for prompt coverage.

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *