پاک فوج کا جذبہ ایثار۔ باعث صد افتخار

افواج پاکستان کے جذبہ ایثار پر تو کوئی انگلی اٹھائی ہی نہیں جا سکتی لیکن اس وقت جب قوم کو معاشی بحران درپیش ہے اور دوسری طرف ملک کی سکیورٹی کو بھی سنگین خطرات لاحق ہیں مگر فوج نے اگلے بجٹ میں تنخواہ کی مراعات نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارت نے توا س اعلان کو پاکستان کے معاشی سرنڈر سے تشبیہہ دی ہے مگر فوج کے ترجمان نے یہ کہہ کر دشمن کامنہ بند کر دیا ہے کہ ستائیس فروری کو یہی فوج تھی اور یہی اس کا بجٹ تھا جب بھارت کو دندان شکن جواب دیا گیا تھا، میں بھار ت کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ مسلمانوںنے غزوہ خندق کی تیاری اس حال میں کی تھی کہ سپاہ سالار اعظم کے پیٹ پر پتھر بندھے تھے۔ اور ایسے ہی مردان صف شکن نے دنیا کی دو سپر طاقتوں کو تاراج کر دیا تھا۔ ایک طرف قیصرروم اور دوسری طرف ایران عالی شان کے کسریٰ کی افواج قاہرہ مگر درویش صفت مسلم افوج نے دونوں دشمنوں کے چھکے چھڑا دیئے تھے۔

اگر بھارت بھاری دفاعی بجٹ ہی کی بات کرتا ہے تو اس کا دفاعی بجٹ ہمیشہ سے ہی پاکستان سے دگنا تگنا چوگنا ہوتا ہے لیکن کشمیر کی پہلی لڑائی ہوئی تو ہمارے مجاہدین سری نگر کے ہوائی اڈے تک پہنچ گئے تھے۔ پینسٹھ کی بات کریں تو بھارت نے رات کی تاریکی میں چوروں کی طرح چھپ کر جارحیت کی تھی مگر پاک فوج نے اس کی یلغار کو ہر محاذ پر پلٹ کررکھ دیا تھا، اکہتر میں دشمن نے ہماری داخلی کمزوریوں کا فائدہ صرف مشرقی محاذ پر اٹھایا جبکہ مغربی محاذ پر اس کے قیصر ہند کے غرور کو خاک میں ملا دیا گیا تھا اور سلمانکی سیکٹر میں بھارت کو شکست فاش کی خفت اٹھانا پڑی تھی۔ سیاچین میں بھی بھارت نے چوروں کی طرح موسم سرما میں پیش قدمی کی مگر آج تک دنیا کے اس بلند ترین محاذ جنگ پر پاک فوج سینہ تانے کھڑی ہے۔ اب پلوامہ کے بعد بھارت کی گیدڑ بھبکیاں کسی کام نہ آئیں،۔ گھس کے ماریں گے کا بیانیہ ابھی نندن کی شکل میں بھارت کو بھگتنا پڑ گیا۔

یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے

جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی

دو نیم انکی ٹھوکر سے صحرا و دریا

سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی

بات کرتے ہیں ملکی معیشت کی جو آئی سی یو میں ہے اور جسے چند لٹیروںنے برباد کر کے رکھ دیا، اپنی تجوریاں بھر لیں مگر قوم کو بھوکا ننگا کر دیا۔ یہ وقت بہت کڑا ہے اور معاشی ٹیم کو سخت چیلنج درپیش ہے۔ اسی چیلنج کے پیش نظر پاک فوج نے ایک پہل کی ہے اور اپنے لئے مزید مراعات نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسے ہر طبقے نے سراہا ہے۔ اس کی ستائش کی ہے اور اسے لائق تقلید قرار دیا ہے۔ فوج کے اس بڑے اور دل گردے و الے فیصلے کا تقاضا ہے کہ پوری قوم سادگی کو شعار بنائے اور کھابہ گیری کی عادت ترک کر دے۔ کمیشن خوری کی لعنت سے نجات پائے اور پائی پائی جوڑ کر ملکی معیشت کو مستحکم ہونے کا موقع دیا جائے۔

پاک فوج کا یہ اعلان غیر متوقع ہے اور حیران کن بھی۔ عام طور پر فوج کو مطعون کیا جاتا ہے کہ یہ خفیہ طور پر بجٹ کھا جاتی ہے۔ کوئی اس کے بجٹ کا آڈٹ مانگتا ہے، کوئی اس کے بجٹ میں کٹوتی کی مانگ کرتا ہے۔ اب کٹوتی تو خود فوج نے کر لی۔ رہ گیا آڈٹ تو خواجہ آصف یہ شوق پورا کر لیں یا بھارت کر لے۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ وقت پاکستان کے لئے قیامت کا ہے۔ اس کی سکیورٹی کو لاحق خطرات پر غور کرنے لگیں تو راتوں کی نیند اڑ جائے۔ ایک طرف افغانستان ہے جہاں دنیا بھر کی افواج ڈیرہ ڈالے بیٹھی ہیں،۔ دوسری طرف ان کے ساتھ ساتھ بھارت بھی ہے جو دہشت گردوں کو پاکستان میں دھکیل رہا ہے۔ تیسری طرف پاکستان میں بلوچستان لبریشن آرمی اور اب پشتون تحفظ محاذ آ گیا ہے جنہوں نے تحریک طالبان کی کسر پوری کر دی ہے۔ وہ دھماکے جو بند ہو گئے تھے۔ پھر سے ہونے لگے ہیں۔ لاشیں پھر سے گرنے لگی ہیں اور اب براہ راست فوج اور سکیورٹی فورسز پر حملے ہو رہے ہیں۔ قانون حرکت میں آتا ہے تو پارلیمنٹ ان ملزموں کے دفاع میں کھڑی ہو جاتی ہے۔ کاش کوئی پاکستان کے دفاع کے لئے بھی کھڑا نظرآئے اور اس کے لئے جان لڑانے کا تہیہ کرے جیسا ہماری فوج اس کے لئے جان لڑاتی ہے۔ کنٹرو ل لائن پر بہتر برسوں سے وہ بھارتی توپوں کے نشانے پر ہے۔ بھارت کہتا ہے کہ گولی کا جواب گولے سے دیا جائے گا اور وہ ایسا کرتا نظر آ رہا ہے۔ پہلے مغربی سرحد محفوظ تھی اور لوگ کھلے عام آر پار جاتے تھے مگر اب یہ سرحد بھی گرم ہو گئی ہے اور کھلے عام آنا جانا پاکستان کے لئے نقصان دہ ہے،۔ اسی لئے ہم وہاں باڑ لگا رہے ہیں۔ باڑ تو بھارت نے کشمیر کی کنٹرول لائن اور بین الاقوامی سرحد پر بھی لگارکھی ہے اور اب امریکی صدر ٹرمپ بھی میکسیکو کی سرحد پر باڑ لگا رہے ہیںمگر پاکستان کی مغربی سرحد پر باڑ لگانے والوں پر گولی چلتی ہے۔ ہمارے گبھرو جوانوں کی لاشیں ملک کے کونے کونے میں جا رہی ہیں۔ یہ کسی کو نظر نہیں آتیں۔ پی ٹی ایم کو نظر نہیں آ تیں بی ایل اے کو نظر نہیں آتیں نہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی اکثریت کو نظر آتی ہیں اس لئے وہ دفاع پر بھی سیاست گرم کر رہے ہیں۔ مگر پاک فوج کسی سیاست میںنہیںپڑنا چاہتی،۔ وہ عوام کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کے لئے اپنے حصے کا بجٹ انہیں دے رہی ہے۔ یہ ایسی مثال ہے جس پر باقی سرکاری محکموں کو بھی عمل کرنا چاہئے اور ہر ممکن طور پر کفایت شعاری کو شعار بنانا چاہئے۔

پاکستان میں بجٹ بنانا کوئی آسان کام نہیں۔ ہمیشہ سے یہ مشکل کام رہا ہے کیونکہ ہر بجٹ عوام کے لیئے باعث آزار بنتا ہے۔ مگراس بار تو عوام پر کچھ زیادہ ہی بوجھ پڑنے کا اندیشہ ہے۔ اسی لئے پاک فوج نے یہ بوجھ بانٹنے کی کوشش کی ہے۔ سعودی عرب، یو اے ای، اور چین نے بھی مالی حمائت کی ہے اور آئی ایم ایف سے بھی بات کرنا پڑی ہے مگر بات ہے کہ بنتی نظر نہیں آتی۔ سیاسی جماعتیں بات کا بتنگڑ بنانے کی کوشش میں ہیں۔

عوام کو سمجھ لینا چاہئے کہ ان کے پیٹ کے دشمن اس ملک کے سابق حکمران ہیں جنہوںنے برس ہا برس تک حکومت کی ہے۔ عوام کا بال بال قرضوں میں جکڑ دیا ہے اور بچوںکا مستقبل گروی رکھ دیا ہے۔ اس جنجال سے نکلنے کے لئے قوم کو مشترکہ طور پر جدوجہد کرنا ہو گی۔ ہمیں سیکھنا ہو گا کہ سنگا پور۔ جنوبی کوریا اور اب تھائی لینڈ اور ویت نام تک جاپان کی سرمایہ کاری کے چہیتے کیوں بن گئے ہیں،۔ یہ ہم تھے جن کے ترقیاتی منصوبے کی نقل کر کے جنوب مشرقی ایشیا کے بعض ملکوں نے اپنے آپ کو ایشین ٹائیگر بنایا اور ہم عالمی بھکاری بن کر رہ گئے۔ یہ کیفیت ہمارے لئے باعث ندامت ہونی چاہئے اور اس سے چھٹکارا پانے کے لئے ایک اجتماعی عزم کی ضرورت ہے، اس کے لئے پاک فوج نے ایک مثال قائم کی ہے۔ امید کی شمع روشن کی ہے۔ آیئے ہم اس کی تقلید کریں اور کچھ عرصے کے لئے پیٹ پر پتھر باندھ کر گزارہ کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *