نیازی تیری ہر بھیڑی عادت ہے نرالی۔

تحریر؛ آغاخالد

۔99 کی بغاوت اور نواز شریف کو طیارہ سازش کے تصوراتی کیس میں کراچی جیل میں رکھا گیا تھا اور میں ان دنوں کرآچی سے نئے شائیع ہونے والے روز نامہ خبریں کا پہلا چیف رپورٹر تھا پنجاب کا سب سے بڑا اور کامیاب اخبار کراچی سے بھی ضیاء شاہد صاحب نے شروع کیاتو پہلی میٹنگ میں مجھے چیف کی ذمہ داریاں سونپتے ہوئے طیارہ سازش کیس کی بھرپور رپورٹنگ کی خاص ہدایات دیں یوں بھی اس نئے اخبار کو کامیاب بنانے کے لئے ہماری پوری ٹیم کی رگوں میں خون کی جگہ کرنٹ نے لےلی تھی اور دیگر واقعات کے ساتھ ہماری پوری رپورٹنگ ٹیم طیارہ سازش کیس کی کمزوریوں سمیت جزئیات پر گہری نظر رکھے ہوئے تھی ایسے میں جیل میں تعینات ایک قابل اعتماد سورس نے اطلاع دی کہ عید کے پہلے روز نماز عید کی ادائیگی کے بعد کراچی کور میں تعینات بریگیڈیئر مستنسر باللہ اپنے عملے کے ہمراہ جیل پہنچے ان کے پاس مٹھائی کا ٹوکرہ اور اس وقت کے ملک اور فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف اور کور 5 کے کور کمانڈر جنرل عثمانی( جو ابھی بفضلہ تعالی حیات ہیں )کی طرف سے تحریری عید کارڈ اور زبانی ہدیہ تہنیت قیدی سابق وزیر اعظم نوازشریف کو پہنچائے ہم نے اپنے طور پر دیگر ذرائیع سے تصدیق کی تو پتہ چلا نہ صرف ملاقات کی خبر درست ہے بلکہ اس موقع پر نواز شریف صاحب کی فرمائیش پر مستنسر باللہ جو کہ نیک اور اپنے کور کمانڈر کی طرح تہجد گزار تھے نے انسانی ہمدردی کے تحت اپنے موبائیل سے نمبر ملاکر سابق وزیر اعظم کی ان کے والدین اور اہل خانہ سے بات بھی کروائی جو آدھے گھنٹے سے زیادہ کے دورانیہ پر منحصر تھی اگلے روز خبر چھپ گئی اور پھر اس سے اگلے روز اس سوفیصد سچی خبر کی تردید بھی چھپی اور اس سچی خبر اور جوٹی تردید کا سب سے دلچسپ پہلو یہ بھی تھا کہ خبر کے بعد تردید بھی میری بائی لائین لگی کہ حکم حاکم جو ٹھراء۔۔۔۔
اس کے برعکس آج ایک سول حکومت ہے اور مخالفین کے اس دعوا سے قطع نظر کہ سلیکٹڈ وزیر اعظم ہے ۔۔۔ہے تو سیویلین ، ایک ایسے سابق ڈکٹیٹر جس کی برائیاں کرتے ہمارے منہ سے جھاگ بہنے لگتا ہے کہ برعکس اس کا رویہ دیکھیں، گر عید کے روز بیٹی کو باپ سے ملنے دیتے اور توہین کے نئے ذرائع کی تلاش میں اس بلاکی جہنم ریز گرمی میں جیل کے دروازے پر کئی گھنٹے روک کر نامراد واپس نہ بھیجتے تو ،اس کے نعرہ مدینہ کی ریاست اور عدل عمر کے دعوا کو جھوٹ کا چوغہ کیوں نصیب ہوتا اور قوم کو اس کا اصل چہرہ دیکھنے کو کیسے ملتا، اس کے منتقم المزاج اور گرے ہوئے انسانی رویہ کو مات دیتی عید بی بی مریم گزر ہی گئی اور جو رہ گئی وہ بھی گزرجائے گی عید مسلمانوں کا ایک مذہبی تہوار ہے جس کی ابتدا مدینہ کی ریاست کے ابتدائی چند اعلانات سے ہوئی اور اسلام میں خوشیوں کے حوالے سے اس کا ایک خاص مقام ہے صرف انفرادی نہیں اجتماعی خوشی اور نبی کے دائیرہ فرمان میں عمران خان نیازی اور محترمہ مریم نواز کی خوشیوں میں تقسیم نہیں تو پھر دعوائے عدل عمر پیش ریاست مدینہ۔۔ہائے خدا آپ کی دنیا میں ایسے لوگ بھی سرفراز ہیں جو تیرے نبی کے نام پرقوم کو سر عام دھوکہ دیتے ہیں اور تیرے نام پر بننے والا یہ حاکم قوم کی ایک بے بس بیٹی کو اس کے پابند سلاسل باپ سے اس لئے ملنے نہیں دیتا کہ اس کی عقابی آنکھوں سے پرپدری شفقت سے ملنے والی حرارت سے وہ خوف زدہ ہے اسےان آنکھوں سے ٹپتے آنسو پسند ہے اور اس کی وحشی صفت کو تسکین کا ذریعہ بھی ،ایسا ہوبھی کیوں نہیں؟
آخرخوف بھی تو کوئی حقیقت ہے نا؟؟؟؟؟؟؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *