پاکستانی موسیقی کا ایک سنہرا باب بند ہوا۔۔۔۔۔

موسیقار نیاز احمد اب ہم میں نہیں رہے لیکن ان کے بے شمار نغمے ہمیں ان کی یاد دلاتے رہیں گے نیاز احمد صاحب سے میری ملاقات تقریباً چودہ برس قبل ہوئی تاہم وہ دن زندگی کا یادگار دن تھا چونکہ اس سے قبل گھر کے روشن دان سے ایک تصویر دکھائی دیتی تھی جونیاز صاحب کے بنانامکمل تھی،ستراور اسسی کی دہائی میں عالمگیر،شہکی سمیت لاتعداد فنکار اناس عظیم موسیقار کی دھنوں سے سپراسٹار ہوئے لیکن یہ درویش اس ہی مقام پر بہت تھوڑی سی دادکامنتظررہا،اس عظیم فنکار کوزندگی کے آ خری ایام میں پاکستان ٹیلی وژن،ریڈیو پاکستان،ناپا،میں تماشائی کے سوا کچھ نالیاگیااورگزشتہ کئی برسوں سے اس کا اپنے فن اور اداروں سے مکمل ناطہ اس وقت ٹوٹ گیا جب انھیں دوستوں کی ضرورت پیش آئی اور ان کے رفقا پیچھا چھڑا کر بھاگتے دکھائی دئیے،شہرکاسب سے بڑا ثقافتی ادارہ آ رٹس کاؤ نسل اب بیوروکریٹس اور وہاں قابض مخصوص افراد کے ٹولے کے ہمنواؤں کاادارہ ہے،دوسری جانب پی ٹی وی شہزاد خلیل اور شعیب منصور کے بعد پرائیویٹ چینلز کی دوڑ میں شامل ہونے کے گرتلاش کررہاہے جبکہ ریڈیو پاکستان کسی زیڈ اے بخاری،سلیم گیلانی کامنتظردکھائی دیتاہے ایسے میں حقیقی فنکار کہاں جائیں، اس صورت حال میں نیاز احمد،انورمقصود،امجداسلام امجد،اصغرندیم سید کے فن پر کون داد دے،خیرنیازصاحب جس خاموشی سے رخصت ہوئے اس پرمیڈیا اوربلخصوص آ رٹس کاؤنسل انتظامیہ کوشرم سے ڈوب مرنا چاہئیے،مجھے یاد ہے آ رٹس کاؤنسل کابرسراقتدارٹولہ نیاز احمد،رئیس خاں،مشتاق احمدیوسفی،انتظارحسین،عبداللہ حسین اوران جیسے لاتعداد افراد کی بولی لگاکرمداریوں کی طرح ووٹوں کی بھیک مانگ کرجیتتا آ یا لیکن افسوس کاندھوں پر چڑھ کر آ نے والوں کویہ تک یاد نہیں کہ یہ جھوٹی عمارتیں ان ہی قد آور شخصیات کے دم سے تعمیر ہوئی تھی بہرحال شرم کا مقام ہے آ خر میں چلتے چلتے اتنا ضرور کہنا چاہوں گا۔۔۔اپنے اسٹارز کی قدر کیجئے چونکہ یہ چراغ جلے توہی روشنی میسر آ ئے گی

(عمیر علی انجم)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *