کھربوں روپے کا  چینی و گندم اسکینڈل

کھربوں روپے کا  چینی و گندم اسکینڈل نیا پاکستان والوں کیلئے کسی بھی وقت درد سر بن سکتا ہے، چیئرمین نیب کی طرف سے اس بڑے اسکینڈل پر ایکشن لیئے جانے پر کئی اہم شخصیات ، وفاقی وصوبائی وزرا اور ارکان اسمبلی لپیٹ میں آ سکتے ہیں، ملک کی فوڈ سکیورٹی دائو پر لگانے والے ’’ریڈ ار‘‘ پر آگئے: ذرائع  ۔۔۔۔۔ تفصیلی خبر کیلئے یہ لنک کلک کریں

اسلام آباد : تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے ہی سال میں سامنے آنے والا کھربوں روپے کا  چینی و گندم اسکینڈل نیا پاکستان والوں کیلئے کسی بھی وقت درد سر بن سکتا ہے اور چیئرمین نیب کی طرف سے اس بڑے اسکینڈل پر ایکشن لیئے جانے پر پی ٹی آئی حکومت کی کئی اہم شخصیات ، وفاقی وصوبائی وزرا اور ارکان اسمبلی  اس کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں ، ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے  شوگر ملز کارٹل کو 20 ارب روپے کی سبسڈی دینے کے ساتھ ساتھ ساتھ چینی کے ریٹس میں 15 روپے فی کلو مصنوعی اضافے کے ذریعے عام آدمی کی جیب پر  اربوں  روپے کا ناقابل تصور ڈاکہ ڈالنے کا موقع فراہم کیا گیا اس کے بعد گندم خریداری کیلئے باردانہ کی تقسیم میں گھپلوں کے بعد فلور ملز کو انجینئرڈ خریداری کے ذریعے اربوں روپے کی گندم کی بہت بڑے پیمانے پر خریداری کے مواقع فراہم کیئے گئے ، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ  اگلے پورے سال کیلئے ملک کی فوڈ سکیورٹی دائو پر لگانے والے ’’ریڈار‘‘ پر آ گئے ہیں ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی اور گندم کے اس بہت بڑے اسکینڈل کے حوالے سے  وزیرا علیٰ پنجاب عثمان بزدار سمیت پوری ُپنجاب حکومت چیختی رہی لیکن ملک کے انتہائی طاقتور شوگر ملز کارٹل اور گندم و آٹا مافیا کو کھربوں روپے کی لوٹ مار کا ناقابل تصور ڈاکہ ڈالنے سے روکنے کیلئے کچھ نہیں کیا گیا ، ذرائع کا کہنا ہے کہ ملکی سلامتی کے ہر پہلو پر نظر رکھنے والی قوتیں یہ  انتہائی حساس معاملات  وزیر اعظم عمران خان ، چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ اور چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے نوٹس میں لا  رہی ہیں اس حولے سے  تفصیلات رونگٹھے کھڑے کر دینے والی ہیں ، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ملکی سیاست ومعیشت کا سب سے طاقتور ’’کھلاڑی‘‘ ہونے کے ناطے ایک طرف  شوگر ملز کارٹل اب تک ناقابل احتساب رہا ہے تو دوسری طرف گندم وآٹا مافیا کی طرف سے پچھلے 20 سالوں سے ڈالے جانے والے کھربوں روپے کے ڈاکے کو روکنے والا کوئی نہیں،  حتیٰ کہ نئے پاکستان میں بھی کوئی نہیں ، یہ کہا جا رہا ہے کہ کھربوں روپے کا یہ نیا چینی وگندم  اسکینڈل ایک طرح سے موجودہ حکومت کیلئے ٹیسٹ کیس بھی ہے کہ کیا  نئے پاکستان میں ارب پتیوں کا بھی کبھی  کوئی احتساب ہوگا ؟ چینی اسکینڈل کا سب سے المناک پہلو یہ ہے کہ 20 ارب کی سبسڈی لے کر بھی شوگر ملز کارٹل کی تسلی نہیں ہوئی اور چینی کی قیمت میں 15 روپے اضافے کے ذریعے مزید اربوں روپے ماہانہ کا ڈاکہ ڈالنے کا سلسلہ انتہائی دھڑلے سے جاری ہے ، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار وہ واحد حکومتی شخصیت ہیں جو اس کارٹل کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑی ہوئی لیکن انہیں بھی شٹ اپ کال دینے کیلئے شوگر ملزکارٹل کے ’’پے رول‘‘ پر موجود بڑے بڑے اینکرز کے ذریعے بزدار حکومت کی کردار کشی شروع کر دی گئی اور یہ تاثر پھیلایا گیا کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدارکی حکومت  چند ہفتوں کی مہمان ہے، چینی ایکسپورٹ کے بعد گندم ایکسپورٹ کی اجازت دے کر وفاقی حکومت نے شوگر مافیا کے بعد گندم وآٹا مافیا کو بھی کھربوں روپے کی لوٹ مار کا نیا ’’گیٹ وے‘‘ کھول دیا اس نازک مرحلے پر بھی وزیراعلیٰ پنجاب ’’ وسیم اکرم پلس ‘‘ بن کر جہانگیر ترین گروپ کے مقابل کھڑے ہوئے لیکن ان کی ایک نہیں سنی گئی ، میڈیا رپورٹس کے مطابق چینی کے بعد گندم اور آٹے کی قیمتوں میں بھی مصنوعی اضافے پر عوام کے ساتھ ساتھ” بزدار حکومت “ بھی چیخ اُٹھی  اور اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں  وفاقی حکومت کی برآمدی  پالیسیوں پر شدید احتجاج  کیا ،یہ کہا جا رہا ہے کہ  ایکسپورٹ پالیسی کے ایشو پر وفاق اور پنجاب ایک بار پھر آمنے سامنے آ گئے ہیں ، پہلے پنجاب حکومت کا چینی کی برآمد روکنے کا مطالبہ مسترد کیا گیا تو شوگر پرائسز آسمان سے باتیں کرنے لگیں ، اب وزیراعلیٰ بزدار کی حکومت نے گندم کی ایکسپورٹ پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تو وفاق نے اس انتہائی دردمندانہ مشورے کو بھی انتہائی سختی سے رد کر دیا جس کی وجہ سے ملک میں گندم اور آٹے کی قیمتیں ڈیڑھ سو روپے من تک بڑھ جانے کی وجہ سے 10 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے ، پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق ملک میں گندم اور آٹے کی تیزی کے ساتھ بڑھتی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے سوموار 7 مئی کووفاقی وصوبائی بیوروکریٹس کے اہم مشترکہ اجلاس میں پنجاب کے سیکرٹری فوڈ نسیم صادق نے گندم کی برآمد پر فوری پابندی کا مطالبہ کیا لیکن وفاقی حکومت نہیں مانی، اُلٹا وفاقی سیکرٹریز نے پنجاب میں گندم خریداری آپریشن میں صوبائی حکومت کو ناکام قرار دیکر انہیں جھاڑ پلا دی، ذرائع کا کہنا ہے گندم و آٹا مافیا طورخم ، چمن ،غلام خان، انگوراڈہ سمیت مختلف بارڈر کراسنگز کے ذریعے روزانہ ایک لاکھ تک تھیلے افغانستان بھجوا کر 200 روپے من کا جادوئی منافع کما کر روزانہ کروڑوں اربوں  روپے’’ بنا‘‘رہا ہے،اس تشویشناک صورتحال کی وجہ سے ملک کے مختلف ایریاز میں گندم کی اوپن مارکیٹ قیمت میں دو تین ہفتوں کے دوران ڈیڑھ سو روپے فی چالیس کلو گرام سے زائد کا حیران کن اضافہ ہو چکا ہے اور پچھلے ماہ کے شروع میں غلہ منڈیوں میں ساڑھے گیارہ سو روپے من بکنے والی گندم اس وقت 1325 سے 1375 روپے فی چالیس کلو گرام میں فروخت ہو رہی ہے جبکہ آٹے کی قیمت بڑھ کر 1500 سے 1600 روپے فی چالیس کلو گرام تک پہنچ گئی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت ڈیڑھ ماہ کے دوران تیسری بار چینی کی ایکسپورٹ بند کر کے عوام کو سستی چینی فراہم کرنے کا مطالبہ کر چکی ہے لیکن وفاقی حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ، اس عجیب وغریب صورتحال کی وجہ سے شہروں میں چینی 65 روپے فی کلو اور دیہات میں 70 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے،27 اپریل کوایوان وزیراعلیٰ میں منعقدہ اجلاس میں سیکرٹری انڈسٹریز نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارکوچینی کی ڈیمانڈ اینڈ سپلائی پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ صوبے میں چینی کے ذخائر 10 لاکھ ٹن سے زائد ہیں اور یہ چینی ملکی ضروریات سے بھی وافر ہے اس کے باوجود وہ یہ وضاحت کرنے میں ناکام رہے کہ ملک میں چینی کے ذخائر وافر ہونے کے باوجود اس کا ریٹ ڈیڑھ ماہ کے دوران 15 سے 20 روپے فی کلو بڑھ کیوں گیا ہے؟ کاشتکار تنظیموں کا کہنا ہے کہ ڈالر کا ریٹ بڑھنے سے چینی کی قیمت تو تیزی کے ساتھ بڑھ جاتی ہے لیکن گنے کے ریٹ پر کوئی فرق نہیں پڑتا جو پچھلے پانچ برسوں سے 180 روپے من پر رکا ہوا ہے ، کسانوں کی نمائندہ تنظیمیں اس حوالے سے بھی سوالات اٰٹھا رہی ہیں کہ مسلم لیگ ن کے پانچ سالوں کے دوران چینی کا ریٹ 50 روپے کلو پر مستحکم رہا لیکن تبدیلی سرکار کے آتے ہی چند ماہ کے اندر اس میں سونامی سپیڈ سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے ، پہلے چینی کے ریٹ نے سونامی سپیڈ پکڑی اب آٹے اور گندم کی قیمت کو پر لگ گئے ہیں ، ذرائع کا کہنا ہے کہ جس اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ملک میں چینی کے انتہائی وافر ذخائر کے بارے میں ”سب اچھا “ کی بریفنگ دی گئی اس میں صوبائی وزرا ءسمیع اللہ چوہدری ، نعمان احمد لنگڑیال،مشیر وزیراعلیٰ چوہدری اکرم ، چیف سیکرٹری ، آئی جی پنجاب ، کمشنر لاہور ، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز اور دیگر سینئر بیوروکریٹس نے شرکت کی تھی ، اس اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا تھا کہ چینی کی قیمت میں بلاجواز اضافہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، پنجاب حکومت چینی کی قیمت میں استحکام کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی،کسی کو اس سلسلے میں من مانی نہیں کرنے دیں گے۔انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ چینی کی قیمت میں بلاجواز اضافہ روکنے کے لیے ہر آپشن استعمال کیا جائے گا ، انہوں نے ہدایت کی تھی کہ متعلقہ محکمے چینی کے نرخوں میں استحکام کے لیے اقدامات اٹھائیں، اس دوٹوک وارننگ کے باوجود سرکاری مشینری اور چینی ، گندم وآٹے کے ذخیرہ اندوز اور مافیاز کنٹرول میں نہیں آ رہے اور پہلے چینی کی قیمتیں بڑھا کر عوام کی جیبوں پر اربوں روپے کاڈاکہ مارا گیا اب گندم اور آٹے کی قیمت بڑھانے کا 10سالہ ریکارڈ توڑ دیا گیا ہے ، شہریوں کا کہنا ہے تحریک انصاف اپوزیشن میں تھی تو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن پر تنقید کی جاتی تھی کہ اُن کی لوٹ مار کی وجہ سے ملک میں مہنگائی بڑھ گئی ہے لیکن چینی اور آٹے کے حوالے سے تو صورتحال یہ ہے کہ اس کی قیمت میں اتناظالمانہ اضافہ پچھلے دس سال میں نہیں ہوا ، جتنا تبدیلی سرکار کے آٹھ مہینے میں ہو گیا ہے ،

سوشل میڈیا پر ایک اور دلچسپ موازنہ بھی  شروع ہو گیا ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ حکومت نے میٹروبس پر سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور نجی ٹی وی چینل کے مطابق اس سلسلے میں وزیراعظم عمرا ن خان نے منظوری بھی دیدی ہے  تاہم انتہائی حیران کن صورتحال یہ  ہے کہ حکومت نے میٹروبس پر 1بلین کی سبسڈی ختم کرکے  پی ٹی آئی رہنمائوں اور وفاقی وزرا جہانگیرترین، مخدوم خسرو بختیار  کی شوگر ملز سمیت 50 کے قریب شوگرملوں کو 21ارب 44 کروڑ روپے کی ’’میگا سبسڈی‘‘  دیدی ہے ۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ممکنہ طورپر یہ فہرست مئی 2018 کی ہےلیکن تصدیق نہیں ہوسکی تاہم مئی میں تحریک انصاف کی حکومت اقتدار سنبھال چکی تھی۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے شوگرملوں کی فہرست اور ملنے والی سبسڈی کی تصویرشیئرکرتے ہوئے لکھا ہے  ’کہ عام آدمی کی  ایک بلین سبسڈی ختم کرکے امیر ترین لوگوں کو  تقریباً ساڑھے بیس ارب روپے کی  سبسڈی دیدی گئی  ہے ، مجھے اس طرح کے نئے پاکستان کی ضرورت نہیں، پرانے پاکستان میں بہت خوش تھا جہاں ایک غریب شخص آسانی سے لاہور میٹرومیں سفر کرسکتاتھا‘۔

سبسڈی فہرست کے مطابق جے ڈی ڈبلیو شوگرملز کو سب سے زیادہ 2.06بلین کی سبسڈی دی گئی ہے  اور یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جے ڈی ڈبلیو گروپ کے ڈائریکٹر تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر خان ترین ہیں۔

ایک سوشل میڈیا صارف کے سوال کے جواب میں صفدر لغاری نے بتایا کہ ’جنوبی پنجاب  اور اندرون سندھ کی چار پانچ شوگر ملز کے مالکان میں جہانگرین ترین  سب سے بڑے شیئر ہولڈر ہیں ، درحقیقت تحریک انصاف کی  حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد اس نے 2 ارب روپے  وصول کیے ، دوسرے اہم  شوگر ملز گروپ کے مالک وفاقی وزیرمنصوبہ بندی خسرو بختیار ہیں انہوں نے ایک ارب روپے سبسڈی کی مد میں وصول کیئے  ہیں ‘‘۔

اس انکشاف پر ڈسٹرکٹ کونسل نارووال کے چیئرمین احمد اقبال نے لکھا  ہے کہ ” ترین کی جے ڈی ڈبلیو کیلئے 2بلین سبسڈی اور امیر کروڑ پتیوں کے لیے مجموعی طور پر 20بلین روپے  لیکن لاہور میں میٹروبس پر سفر کرنے والے غریبوں کے لیے ایک ارب روپے بھی  نہیں، ہزاروں لوگ روزانہ صحت کے مسائل پر چلڈرن اور جنرل ہسپتال وغیرہ جانے کے لیے میٹروبس استعمال کرتے ہیں “۔

ساڑھے 20 ارب روپے کی سبسڈی حاصل کرنے والی دیگرشوگرملز میں سعید چوہدری کی ہنزہ شوگرملز،مختار برادرز کی فاطمہ شوگرملز، ٹوسٹا ر انڈسٹریز، النور شوگرملز، مخدوم خسرو بختیار کی  آروائے کے شوگرملز،فرحان شوگرملز،محمد قاسم ہاشم وغیرہ کی مہران شوگرملز، شہریار فاروق وغیرہ کی میرپورخاص شوگرملزاور دیگر 46شوگرملزشامل ہیں،

چینی کی قیمت 15 روپے کلو بڑھا کی کی جانیوالی لوٹ مار کے بعد گندم و آٹے کا مصنوعی بحران پیدا کر کے لوٹ مار کے نئے ریکارڈ قائم کرنے کیلئے تمام ’’گرائونڈ ورک ‘‘ مکمل ہو چکا ہے لیکن وزیراعظم   عمران خان کو یا تو مسلسل اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے یا پھر انہیں یقین دلا دیا گیا ہے کہ پاکستان میں سیاست کرنے اور بااثر سیاسی گروپوں اور ارب پتی ارکان اسمبلی کو ساتھ شامل رکھنے کیلئے اس طرح کی لوٹ مار کی اجازت دینا ایک ایک مجبوری ہے کہ جس کے بغیر سیاست وحکومت کے ’’گلشن کا کاروبار‘‘ چل ہی نہیں سکتا ،

ملک کی فوڈ سیورٹی دائو پر لگ جانے کے باوجود وزیراعظم کیوں خاموش ہیں  اس پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے تاہم صورتحال مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے ،مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کے طوفان کی وجہ سے  نیا پاکستان میں چینی کی قمیتوں میں سونامی سپیڈ سے اضافے کے بعد آٹے کا بھی خوفناک بحران پیدا ہونا اب یقینی دکھائی دینے کگا ہے اور آٹے کی قیمت  قیمت2 ہزار روپے من تک جانے کی افواہوں سے گندم کی دھڑا دھڑ ذخیرہ اندوزی میں مزید تیزی آگئی ہے ، سندھ اور پنجاب کا  محکمہ خوراک اور پاسکو اپنی خریداری کا آدھا ٹارگٹ بھی مکمل نہیں کرسکا۔ فلور ملز، سیڈ کمپنیوں اور آٹا مافیا نے کرپٹ سرکاری افسروں اور اہلکاروں کی مدد سے جنوبی پنجاب اور اندرون سندھ سے اربوں روپے کی گندم خرید کر ذخیرہ کرلی ہے۔ انتظامیہ، پولیس اور مختلف محکموں کی طرف سے وزیراعلیٰ پنجاب، وزیراعلیٰ سندھ اور وزیراعظم پاکستان کو مسلسل اندھیرے میں رکھنے کی وجہ سے ملک و قوم کی فوڈ سکیورٹی داﺅ پر لگ چکی ہے۔ مارکیٹ ذرائع نے اس سال آٹے کی قیمت میں 10 سے 15 روپے فی کلوگرام کے خوفناک اضافے کا خدشہ ظاہر کردیا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو چینی کی قیمت میں 15 روپے فی کلو اضافے کے بعد آٹے کی قیمت میں بھی 15 روپے اضافے کی ”سلامی“ رائے عامہ کو نئے پاکستان کیخلاف بھڑکانے کی کسی منظم سازش کا بھی حصہ ہوسکتی ہے۔  یاد رہے کہ صوبائی حکومتوں نے تمام اضلاع کی انتظامیہ اور پولیس کو سختی سے ہدایت کررکھی ہے کہ فلور ملز اور دوسرے ذخیرہ اندوزوں کو بڑے پیمانے پر گندم ذخیرہ کرنے سے روکیں لیکن ان احکامات پر عمل نہیں ہورہا۔ گزشتہ دنوں جب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ضلع رحیم یارخان  سمیت مختلف اضلاع کے دورے پر گئے تو انہیں تمام محکموں اور اداروں نے ”سب اچھا“ کی رپورٹیں پیش کیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو اندھیرے میں رکھنے کیلئے اربوں روپے کی گندم ذخیرہ کرنے والے مافیاز کی طرف سے محکمہ خوراک، انتظامیہ، پولیس اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں کو بڑے پیمانے پر نوازا جارہا ہے جس کی وجہ سے پچھلے کئی ہفتوں سے فلور ملز، کاٹن فیکٹریوں، آئل ملز، سیڈ کمپنیوں میں گندم کی طوفانی رفتار سے ذخیرہ اندوزی کی جارہی ہے اور لاہور، اسلام آباد میں حکمرانوں کو کانوں کان خبر نہیں کہ ملک کی  فوڈ سکیورٹی کس خطرناک حد تک دائو پر لگا دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گندم خریداری آپریشن کے دوران پہلے مرحلے میں 80 فیصد باردانہ کاشتکاروں کی بجائے بیوپاریوں کو جاری کردیا گیا اور گندم خریداری کا آغاز دانستہ طور پر تاخیر سے کیا گیا اس وقت تک 60 سے 70 فیصد گندم کاشتکاروں نے بیوپاریوں کو 1100 روپے سے 1150 روپے فی من کے حساب سے فروخت کردی تھی اس کے بعد جونہی گندم خریداری کی سرکاری مہم شروع ہوئی غلہ منڈیوں میں گندم کا ریٹ 1250 سے 1325 روپے فی من تک بڑھادیا گیا جس کے بعد کاشتکاروں نے بچی کھچی گندم بھی سرکاری خریداری مراکز پر لیجانے کی بجائے بیوپاریوں، آڑھتیوں اور فلور ملز کو بیچنا شروع کردی۔ ذرائع کے مطابق  محکمہ خوراک رحیم یارخان کے 20 خریداری مراکز پر 10 مئی تک 7 لاکھ بوری گندم خریداری کا ٹارگٹ تھا لیکن بمشکل آدھی یعنی ساڑھے 3 لاکھ بوری گندم خریدی جاسکی ہے جنوبی پنجاب کے دوسرے اضلاع میں ٹارگٹ کی بھی کم وبیش یہی صورتحال ہے ،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *